سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(10) چوری شدہ چیزوں کی نشاندہی عملیات کے ذریعہ کرنا

  • 11927
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-21
  • مشاہدات : 786

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک نمازی آدمی ثواب کی نیت سے لوگوں کی چوری شدہ چیزوں کی نشاندہی کرتا ہے،وہ اس طرح کہ کسی بچے کے ناخن پر سیاہی لگادیتا ہے،پھرعملیات کے ذریعہ اس سے سوالات کرتا ہے ،اس کےمتعلق ہماری راہنمائی کریں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شرعاً ایسا کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ غیب کی خبرین دینا شیطانی عملیات سے ہوتا ہے ،حدیث میں ہے کہ ‘‘جو شخص کسی نجومی یا عراف کےپاس گیا اور اس کے قول کی تصدیق کی تو اس نے ان تعلیمات کاانکار کردیا جو رسول اللہﷺ پر نازل ہوئی ۔’’(مسند امام احمد ،ص:۴۲۹ج۲)

‘‘عراف’’وہ شخص ہے جو خفیہ باتوں کا سراغ لگائے اور قرائن و شواہد سے ان کے معلوم کرنے کا دعویٰ کرے۔ چوری اور گمشدہ چیز کی نشاندہی کرنا اسی قسم سے ہے ان حضرات کی اکثر باتیں جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں۔ ظن و تخمین سے اپنا دعویٰ مضبوط کرتے ہیں۔ ان کا طریقہ واردات بہت عجیب ہوتا ہے کبھی دھاگہ یا کپڑا پیمائش کرتے ہیں ،کبھی لوٹا وغیرہ گھماتے ہیں ،بعض اوقات پیالے میں پانی بھر کر دیکھتے ہیں ،ناخن پر ساہی لگا کرچوری تلاش کرنے کا بھی دعویٰ کرتے ہیں ،ایسا کرنے والا خواہ کتنا ہی پرہیز  گار کیوں نہ ہو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:52

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ