سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(6) نظر کا لگنا اور اس کا علاج

  • 11922
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-26
  • مشاہدات : 4648

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا انسان کونظر لگ جاتی ہے ،اگر ایسا ہے تو اس کے لیے کیاعلاج ہے ،اس کے متعلق تفصیل سے ہمیں آگاہ کریں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نظر بد برحق ہے اوراس سے کسی کونقصان پہنچنا ممکن ہے ،شرعی اورحسی طور پریہ ثابت ہے۔ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’نظر لگنابرحق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تواس سے نظر بد ضرور سبقت کرتی اور جب تم سے دھونے کامطالبہ کیاجائے توا س مطالبے کوپورا کرتے ہوئے غسل کردیاکرو ۔ ‘‘   [صحیح مسلم ،الطب : ۲۱۸۸]

                اس سے معلوم ہوا کہ نظر بد کا لگ جاناایک حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں ،حدیث میں ہے کہ حضرت جبرائیل  علیہ السلام رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کودم کرتے ہوئے درج ذیل کلمات پڑھاکرتے تھے ’’بِاسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیْکَ مِنْ کُلِّ شَيْئٍ یُؤْذِیْکَ مِنْ شِرِّ کُلِّ نَفْسٍ أَوْعَیْنٍ حَاسِدٍ، اَللّٰہُ یَشْفِیْکَ بِاسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیْکَ ‘‘     [صحیح مسلم، الطب: ۲۱۸۶]

                ’’اﷲ کے نام کے ساتھ آپ کودم کرتاہوں ہراس چیز سے جو آپ کوتکلیف دے اورہرانسان کی شرارت اورحسدکرنے والی آنکھ سے، اﷲ آپ کو شفا دے، میں اﷲ کے نام سے آپ کودم کرتاہوں ۔ ‘‘

                نظربد کادوطرح سے علاج ہوتاہے (۱)جسے نظربدلگی ہے اسے دم کیاجائے (۲)نظر لگانے والے کوچاہیے کہ خود کودھوئے، پھر اس پانی کومریض پرڈال دیا جائے ،نظر بد سے بچنے کے لیے پیشگی احتیاطی تدابیربھی کی جاسکتی ہیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  حضرت حسن اورحضرت حسین  رضی اللہ عنہما کومندرجہ ذیل کلمات کے ساتھ دم کیاکرتے تھے ۔اُعِیْذُ کُمَا بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَّھَآمَّۃٍ وَمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لاَّمَّة ’’ میں تمہیں اللہ کے کلمات تامہ کی پناہ میں دیتاہوں ،ہرشیطان اورزہریلی بلاکے ڈر سے اورہرلگنے والی نظر بد سے‘‘     [ابن ماجہ ،الطب :۳۵۲۵]

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’حضرت ابراہیم  علیہ السلام   بھی حضرت اسماعیل اورحضرت اسحاق علیہ السلام  کواسی طرح دم کیاکرتے تھے ۔‘‘   [صحیح بخاری ،احادیث الانبیا ء :۳۳۷۱]

 الغرض نظربدبرحق ہے اوراس کاعلاج ممکن ہے اوراس سے بچنے کے لیے قبل ازوقت احتیاطی تدابیر بھی کی جاسکتی ہیں۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:2،صفحہ:49

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ