سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(4) پاکپتن کے بہشتی دروازے کی شرعی حیثیت

  • 11920
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-21
  • مشاہدات : 723

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
پاکپتن میں بابا فرید کی قبر پر ایک بہشتی دروازہ ہے،جسے ایک سال کے بعد کھولا جاتا ہے اور اس سے گزرنے والے عقیدہ رکھتے ہیں کہ انہوں نے جنت کے دروازے کو پار کرلیا ہے۔اب دریافت طلب امریہ  ہےکہ ۔۔۔۔
(۱)اس دروازہ کی قفل کشائی ایک مجاور کرتا ہے جبکہ جنت کا دروازہ تو رسول اللہﷺ کھولیں گے ،کیا یہ توہین رسالت نہیں ہے۔
(۲)جو لوگ اس دروازے سے گزرتے ہیں ،ان کے متعلق شرعاً کیا حکم ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

پاکپتن میں بابا فرید کی قبر پر ایک بہشتی دروازہ ہے،جسے ایک سال کے بعد کھولا جاتا ہے اور اس سے گزرنے والے عقیدہ رکھتے ہیں کہ انہوں نے جنت کے دروازے کو پار کرلیا ہے۔اب دریافت طلب امریہ  ہےکہ ۔۔۔۔

(۱)اس دروازہ کی قفل کشائی ایک مجاور کرتا ہے جبکہ جنت کا دروازہ تو رسول اللہﷺ کھولیں گے ،کیا یہ توہین رسالت نہیں ہے۔

(۲)جو لوگ اس دروازے سے گزرتے ہیں ،ان کے متعلق شرعاً کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

استفتاح میں جو صورتحال بیان کی گئی ہے اس میں صرف توہین رسالت ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی توہین کا بھی نمایاں پہلو پایا جاتا ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ پورے عالم اسلام سے استہزاء و مذاق کے مترادف ہے۔ا للہ تعالیٰ نے اپنے ہاں آسمانوں پر جنت کو پیدا کیا ہے اور اس میں اہل ایمان کے لیے بے شمار ایسی نعمتیں پیدا کی ہیں جو آج ہمارے  وہم و گمان میں بھی نہیں ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ اپنے ماننے والوں کو نہایت اعزاز و احترام سے داخل فرمائیں گے اور خود رسول اللہﷺ اس جنت کا افتتاح فرمائیں گے۔ اس کے برعکس بابا فرید کی قبر پر جنت کے بغیر صرف ایک دروازہ نصب ہے جسے بہشتی دروازہ کہاجاتا ہے ،اس پر عربی عبار ت بھی غلط تحریر ہے عبارت اس طرح ہے۔

‘‘من دخل هذه الباب دخل الجنة’’یعنی ‘‘ھذا’’کے بجائے‘‘ھذِہِ’’لکھا ہے۔

اس میں داخل ہونے والوں کی خوب مرمت کی جاتی ہے،انہیں وہاں تعینات افراد زودوکوب کرکے گناہوں سے پاک کرتے ہیں ۔پولیس کی لاٹھیاں کھانے کے بعد ‘‘بابافرید’’‘‘بابافرید’’کہتے ہوئے وہاں سے بھاگتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی جنت میں ایسا سلوک نہیں ہوگا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

‘‘جن لوگوں نے کہا کہ ہمار ا پروردگار اللہ ہے،پھر اس پر ڈٹ گئے ،ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے یہ کہتے ہیں نہ خوف کرو اور نہ غم کھاؤاور اس جنت کی خوشی مناؤ،جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی تمہارے دوست ہیں۔اس آخرت میں تمہارا جو جی چاہے گا تمہیں ملے گا اور جو کچھ مانگوگے پورا ہوگا یہ بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہوگی۔’’ (۴۱/حم السجدہ:۳۲)

اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمت عملی کے ساتھ ان لوگوں کو راہ راست پر لایاجائے ،یہ دراصل جہالت کے کرشمے ہیں،یہ لوگ حقیقی جنت سے نا آشنا ہیں ، انہیں اس حقیقی جنت سے آشنا کرنے کےلیے محنت کی ضرورت ہے جسے ہم ادا نہیں کررہے ہیں۔ واللہ المستعان

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص49

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ