سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(3) مختارِ کل کون؟

  • 11917
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-21
  • مشاہدات : 431

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عالم دین نے رسول اللہ ﷺ کو مختا ر کل ثابت کرنے کےلیے ایک حدیث پیش کی ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے صرف دونمازیں پڑھنے کے متعلق کہا،تو آپ نے اسے اجازت دےدی۔جب آپ کو نمازوں میں کمی کرنے کا اختیارہے تو دیگر کاموں کےمتعلق بھی کلی اختیار رکھتے ہیں۔ یہ حدیث مسندا حمد کے حوالہ سے پیش کی ہے وضاحت فرمائیں؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عالم دین نے رسول اللہ ﷺ کو مختا ر کل ثابت کرنے کےلیے ایک حدیث پیش کی ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے صرف دونمازیں پڑھنے کے متعلق کہا،تو آپ نے اسے اجازت دےدی۔جب آپ کو نمازوں میں کمی کرنے کا اختیارہے تو دیگر کاموں کےمتعلق بھی کلی اختیار رکھتے ہیں۔ یہ حدیث مسندا حمد کے حوالہ سے پیش کی ہے وضاحت فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مذکورہ حدیث بایں الفاظ مروی ہےکہ رسول اللہﷺ کےپاس ایک آدمی آیا اور وہ اس شرط پر مسلمان ہوا کہ وہ صرف دونمازیں پڑھےگا تو آپ نے اس کی شرط کو قبول کرلیا۔ (مسند امام احمد،ص۳۶۳ج۵)

ہمیں بریلو ی علما سے یہ شکوہ ہے کہ وہ ذخیرہ احادیث میں سے صرف اپنے مطلب کی احادیث چن لیتے ہیں اور باقی‘‘کیا تمام کتاب کے بعض احکام کو مانتے ہو اور بعض کا انکار کردیتے ہو۔’’ (۲/البقرہ:۸۵)

رسول اللہﷺ کا دوسروں کےلیے مختار کل ہونا بہت دور کی بات  ہے ،آپ اپنے متعلق بھی کسی قسم کا اختیار نہیں رکھتے تھے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:‘‘آپ کہہ دیجئے!مجھے خود اپنے نفع و نقصان کا اختیار نہیں ،مگر اللہ تعالیٰ ہی جو چاہتا ہے وہ ہوتا ہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت سی بھلائیاں حاصل کرلیتا اور مجھے کبھی کوئی تکلیف نہ پہنچتی ۔’’(۷/الاعراف:۱۸۸)

نمازوں کے متعلق کمی و بیشی کا اختیار بھی آپ کے پاس بالکل نہیں تھا۔اگر ایسا ہوتا تو جب نمازیں فرض ہوئی تھیں تو بار بار اللہ کے حضور تخفیف کی درخواست نہ کرتے۔چنانچہ حدیث میں ہے کہ معراج  کےموقع پر رسول اللہﷺ کو پچاس نمازوں کا تحفہ ملا۔جناب موسیٰ علیہ السلام کےکہنے پر نو(۹)مرتبہ اللہ تعالیٰ کے حضور تخفیف کی درخواست کی ہر مرتبہ پانچ نمازیں معاف ہوئیں اس طرح جب پانچ باقی رہ گئیں تو فرمایا:‘‘اب مجھے اللہ تعالیٰ کے حضور مزید تخفیف کی درذخواست دینے سے حیا آتی ہے ،اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا:میرے اس فیصلے میں مزید تبدیلی کی گنجائش نہیں ہے۔’’(صحیح بخاری،الصلوٰۃ:۳۴۹)

رسول اللہﷺ کی خدمت میں وفد ثقیف حاضر ہوا اور انہوں نے نماز سے رخصت طلب کی تو آپ نے فرمایا:‘‘جس دین میں رکوع و سجود نہیں ،اس میں کوئی برکت نہیں ہے۔’’(مسند امام احمد،ص:۲۱۸،ج۴)

حدیث کے متعلق علامہ احمد شاکر لکھتے ہیں ۔بادی النظر ذہن اس حدیث کو قبول نہیں کرتا لیکن دیگراحادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہﷺ کےپاس آیا اور عرض کرنے لگا کہ مجھ پر احکام شریعت کی بھرمارہے تو رسول اللہﷺ نے اسے پابندی نماز کی وصیت فرمائی ،وہ کہنے لگا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا تو آپ نے فرمایا:‘‘عصر اور فجر کی نماز کو کسی حالت میں ترک نہیں کرنا۔’’یہ الفاظ بھی آپ نے تالیف قلبی کےلیے ارشادفرمائے ۔ایک حدیث کے مطابق آپ نے فرمایا :‘‘جب یہ دین میں داخل ہوگا تو پوری نمازیں پڑھےگا۔’’(حاشیہ احد شاکر،ص:۱۶۸،ج۱۵)

اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو بذریعہ وحی اطلاع دے دی گئی تھی کہ یہ رخصت ہنگامی بنیادوں پر ہے،بالآخر اسلام قبول کرنے کے بعد یہ اعرابی تمام نمازوں کی پابندی کرے گا۔اس کی وضاحت ایک دوسری حدیث سے ہوتی ہے حضرت فضالہ لیثی ؓ کہتےہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کیا،آپ نے مجھے دین اسلام کی تعلیمات سے آگاہ فرمایا۔پھر نماز اور اوقات نماز کی تعلیم دی کہ ان نمازوں کو بروقت ادا کرنا ہے۔ میں نے عرض کیا :ان اوقات میں بہت مصروف ہوتا ہوں۔ آپ نے فرمایا:‘‘اگر تجھے واقعی مصروفیت ہے تو کم ازکم دونمازیں فجر اور عصر تو بروقت اداکرو ان کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرنا۔’’ (مسند امام احمد،ص:۳۴۴،ج ۴)

اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے نماز سےمعافی طلب نہیں کی تھی بلکہ انہیں اپنی کثرت مصروفیت کی وجہ سے بروقت ادا نہ کرنے سے معذرت کی تھی۔چنانچہ آپ نے وقتی طورپر اسے قبول کرلیا۔محدثین نے اس سے ایک اصول اخذ کیا ہے کہ صحیح شرائط میں ایک غلط شرط کو وقتی طور پر قبول کیا جاسکتا ہے،پھر شرط کے ایفا کے موقع پر اس کی وضاحت کردی جائے،جیسا کہ رسول اللہﷺ نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سےفرمایا کہ ‘‘بریرہ کو آزاد کرنے کے سلسلہ میں اس کےمالک کی ولا کے متعلق شرط کو قبول کرلو اور اسے خرید کر آزاد کردو،پھر آپ نے اپنے خطبہ میں اس کی وضاحت کردی تھی۔’’امام احمد ؒ مذکورہ حدیث کی بناپر فرماتے ہیں کہ شرط فاسد کی بناپر اسلام لانا صحیح ہے لیکن جب وہ دائرہ اسلام میں آجائے تو اسے تمام شریعت اسلام پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔ چنانچہ حافظ ابن رجب حنبلی نے اس موضوع پر بہترین بحث کی ہے۔ (جامع  العلوم والحکم ،ص۷۳،حدیث نمبر۲)

اس حدیث سے رسول اللہﷺ کےمتعلق مختار کل ہونے کا مسئلہ کشید کرنا ایجاد بندہ ہے ،جس پر کتاب وسنت سے کوئی دلیل نہیں ۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:46

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ