سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(2) شرک فی الصفات

  • 11916
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-21
  • مشاہدات : 1166

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اللہ اکبر ہے،صدیق بھی اکبر ہے،اللہ اعظم ہے،فاروق بھی اعظم ہے ،اللہ غنی ہے ،عثمان بھی غنی ہے،اللہ مشکل کشا ہے ،علی مشکل کشا کیوں نہیں ؟گوخالق اپنی شان کےمطابق ہے اور مخلوق اپنی شان کے مطابق ،اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں بادشاہ کو رب کہتا ہے اگر بادشاہ رب ہے تو علی ہجویری  اور جیلانی ؒ داتا اور غوث کیوں نہیں ؟ قرآن پاک میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ اپنے فضل سے تمہیں غنی کردے گا،یعنی اللہ تعالیٰ کےساتھ اس کے رسول بھی فضل فرماتے ہیں تو کیا یہ کہنا صحیح ہے کہ یا رسول اللہ ! فضل کریں؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اللہ اکبر ہے،صدیق بھی اکبر ہے،اللہ اعظم ہے،فاروق بھی اعظم ہے ،اللہ غنی ہے ،عثمان بھی غنی ہے،اللہ مشکل کشا ہے ،علی مشکل کشا کیوں نہیں ؟گوخالق اپنی شان کےمطابق ہے اور مخلوق اپنی شان کے مطابق ،اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں بادشاہ کو رب کہتا ہے اگر بادشاہ رب ہے تو علی ہجویری  اور جیلانی ؒ داتا اور غوث کیوں نہیں ؟ قرآن پاک میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ اپنے فضل سے تمہیں غنی کردے گا،یعنی اللہ تعالیٰ کےساتھ اس کے رسول بھی فضل فرماتے ہیں تو کیا یہ کہنا صحیح ہے کہ یا رسول اللہ ! فضل کریں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ نے اس عالم ِرنگ و بو میں اپنی توحید قائم کرنے کےلیے متعدد کتابیں نازل فرمائیں اور بے شمار رسولوں کو مبعوث کیا ،توحید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء اور اس کی صفات ،نیز اس کے حقوق و اختیارات اور احکام میں کسی مخلوق کو شریک نہ کیا جائے،اگر کسی نے اللہ کے اسماءاس کی صفات ،اس کے حقوق واختیارات اور احکام میں کسی مخلوق کو شریک ٹھہرایا تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مشرک ہےاگر توبہ کے بغیر اس جہاں سے رخصت ہوا تو ہمیشہ کےلیے اس پر جنت حرام اور جہنم واجب ہوگئی ۔ داتا ،غوث اعظم،مشکل کشا اور غریب نواز یہ سب اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ بعض لوگ ان صفات کو مخلوق میں تلاش کرتے ہیں ،جیسا کہ سائل کے سوال سے واضح ہوتا ہے۔ا رشادباری تعالیٰ ہے:

‘‘کون ہے جو بے قرار کی پکار سنتا ہے جبکہ وہ اسے پکارتا ہے اور کون اس کی تکلیف کو رفع کرتا ہے اور کون ہے جو تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی اللہ بھی ہے۔’’(۲۷/النمل:۶۲)

اس آیت کریمہ سےمعلوم ہوا سب سے بڑا فریاد سننے والا ،یعنی غوث اعظم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے ،عبدالقادر جیلانی نہیں ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:‘‘یقیناًتو ہی بہت بڑی عطا دینے والا ہے۔’’ (۳/آل عمران:۸)

اس آیت کریمہ سے پتا چلتا ہے کہ اللہ ہی سب سے بڑھ کر دینے والا یعنی داتا ہے علی ہجویریؒ داتا نہیں ہیں۔ انہوں نے تو خود اپنی کتاب‘‘کشف المحجوب’’میں اپنے متعلق داتا ہونے کی پرزور الفاظ میں تردید کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:‘‘اے لوگو !تم سب اللہ تعالیٰ کے در کےفقیر ہو وہ اللہ تو غنی و حمید ہے۔’’(۳۵/فاطر:۱۵)

اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی غریبوں کو نوازنے والا ہے اس کے علاوہ اور کوئی غریب نواز نہیں ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

‘‘اگر اللہ تعالیٰ تمہیں  کسی مشکل میں ڈال دے تو اس کے علاوہ اسے کوئی دور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ تمہیں کوئی خیر پہنچانا چاہے تو اس کے فضل کوکوئی ہٹانے والا نہیں ۔’’(۱۰/یونس:۱۰۷)

اس آیت سے پتا چلتا ہے کہ تمام مشکلات حل کرنے والا ،یعنی مشکل کشا صرف اللہ تعالیٰ ہے حضرت علیؓ نہیں ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے بعد ایک دعا پڑھتے تھے جس میں یہی مضمون بیان ہوا ہے اس کا ترجمہ یہ ہے :‘‘اے اللہ !جسے تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی صاحب حیثیت کو اس کی حیثیت تیرے مقابلے میں نفع نہیں پہنچاسکتی۔’’(صحیح بخاری،کتاب الدعوات:۶۳۳۰)

سوال میں ابو بکر صدیق ؓ کو اکبر ،عمر فاروق ؓ کو اعظم اور حضرت عثمان ذوانورین ؓ کو غنی کہا گیا ہے۔ان حضرات کےلیے اس قسم کے القاب ہم نے خود تجویز کیے ہیں،کتاب و سنت میں ان کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات ایسی ہیں کہ قرآن پاک میں ان کا اطلاق بندوں پر بھی کیا گیا ہے۔مثلاً:اللہ تعالیٰ سمیع اور بصیر ہے تو انسان کے لیے بھی سمیع اور بصیر کا اطلاق ہوا ہے۔ (۷۶/الدھر:۲)

لیکن اللہ تعالیٰ کا سمیع وبصیر ہونا اس کی شان کے مطابق ہے اور بندے کا سمیع و بصیر ہونا اس کی شان کے لائق ہے۔یعنی بندے کی سماعت و بصارت انتہائی محدود ہے۔کیونکہ بندہ پس پردہ نہ کوئی چیز دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی سن سکتا ہے ،جبکہ اللہ تعالیٰ ایسے عیوب و نقائص سے پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی صراحت فرمائی ہے کہ‘‘اس کی ذات و صفات میں کوئی دوسرا اس جیسا نہیں ہے ۔’’ (۴۲/الشوریٰ:۱۱)

سوال میں خود ہی ان نفوس قدسیہ کی طر ف ایسی  صفات کا انتساب کیا گیا ہے جس کا ثبوت قرآن پاک و حدیث میں نہیں ہے ۔پھر خود ہی صغریٰ کبریٰ ملاکر اس سے غلط مقصد کشید کر لیاگیا کہ اللہ تعالیٰ مشکل کشاہے تو علیؓ مشکل کشا کیوں نہیں ؟مشکل کشا تو اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اسے مخلوق میں کس بنیاد پر تسلیم کیا جائے۔ حضرت علی ؓ تو خود مشکلات میں پھنسے رہے وہ اپنے لیے مشکل کشائی نہ کرسکے تو دوسروں کے لیے کیونکر مشکل کشا ہوسکتے ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

‘‘آپ ان سےکہہ دیجئے کہ اچھا یہ تو بتاؤکہ جنہیں تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ تعالیٰ مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو کیا یہ اس کے نقصان کو ہٹا سکتے ہیں ؟یا اللہ تعالیٰ مجھ پر مہربانی کا ارادہ کرے تو کیا یہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں۔’’(۳۹/الزمر:۳۸)

اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں رسول اللہﷺ کی پوزیشن کو واضح فرمایا ہے سیدنا علی ؓ رسول اللہﷺ کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتے ہیں کہ وہ مشکل کشا بن جائیں۔ کتاب وسنت میں اس کےلیے کوئی سندنہیں ہے۔ یہی سب خود ساختہ اور ایجاد بندہ ہیں۔ بلاشبہ سورہ یوسف میں متعدد مرتبہ  بادشاہ کےلیے رب کا لفظ استعمال ہوا ہے لیکن وہ علی الاطلاق نہیں اور اضافت کے ساتھ دونوں طرح مستعمل ہے،پھر جب  بندے کےلیے اس لفظ کا استعمال  ہوتا ہے تو اس کی تانیث بھی کلام عرب میں مستعمل ہے،مثلاً:گھر کی مالکہ کو عربی میں ‘‘ربۃ البیت’’کہتےہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے لیے اس کی تانیث کا استعمال شرک اکبر ہے۔ سوال میں یہ استدلال ہے کہ ایک شخص کسی دوسرے شخص کے باپ کا ہم نام ہوتو پہلا شخص دعویٰ کردے کہ میرا باپ آپ کے باپ کی جائیداد میں برابر کا شریک ہے۔کسی کے ہم نام ہونے کا یہ معنی نہیں ہے کہ کوئی دوسرا ان کی جائیدا د میں حصہ دار ہے۔ سوال میں قرآ ن پاک کے حوالے سے ایک اور مغالطہ دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ جو مجرمانہ کوشش کے مترادف ہے،یعنی اللہ تعالیٰ او ر اس کا رسول  اپنے فضل سے تمہیں غنی کردے گا۔ قرآن پاک میں اس قسم کے الفاظ قطعاًنہیں ہیں اگر ایسا سہواً نہیں ہوا تو یہ ایک ایسی تحریف ہے جس کا ارتکاب یہودی کیا کرتے تھے۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:‘‘منافقین صرف اس بات کا انتقام لے رہے ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول نے دولت مند کردیا ہے۔’’ (۹/توبہ:۷۴)

اس آیت کریمہ سے یہ مفروضہ کشید کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے رسول بھی فضل فرماتے ہیں تو ‘‘یا رسول اللہﷺ!فضل کریں’’ کہنا بھی صحیح ہے العیاذ باللہ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے رسول کا ذکر اس لیے ہے کہ اس غنا اور تونگری کا ظاہری سبب رسول اللہﷺ کی ذات گرامی ہی بنی تھی ،ورنہ حقیقت میں غنی بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ میں جب فضل کا ذکر ہوا ہے تو اس کے ساتھ واحد کی ضمیر استعمال ہوئی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نےا پنے فضل سے انہیں غنی کردیا۔ دوسرے الفاظ میں فضل و کرم کرنا صرف اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے ،اس میں اس کے رسول کا ذرہ برابر بھی حصہ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کے ساتھ تثنیہ کی ضمیر استعمال کی جاتی بلکہ خود رسول اللہﷺ اللہ تعالیٰ کے فضل کے محتاج ہیں،جیسا کہ حدیث میں ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا  کہ ‘‘قیامت کے دن تم میں سے کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دے گا۔’’صحابہ ؓ نے عرض کیا :یا رسول اللہﷺ! آپ کو بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ ‘‘مجھے بھی میرا عمل نجات نہیں دلائے گا،ہاں اگر اللہ تعالیٰ کا فضل میرے شامل حال ہوجائے تو الگ بات ہے۔’’(صحیح بخاری ،الرقاق:۶۴۶۳)

نیز حضرت عثمان بن مظعون ؓ کی وفات کے موقع پر جب ان کے متعلق حسن ظن کا اظہار کیا گیا تو آپ نے فرمایا :‘‘اللہ کی قسم!مجھے اللہ تعالیٰ کا رسول ہونے کے باوجود علم نہیں کہ قیامت کے دن میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔’’(صحیح بخاری،المناقب:۳۹۲۹)

آخر میں ہم اپنے معزز قارئین اور سائلین سے یہی گزارش کریں گے کہ اسباب کے بغیر داتا ،غوث اعظم ،مشکل کشا اور غریب نواز صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے،لہٰذا جب بھی دعا مانگویا مدد کےلیے پکارو تو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:43

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ