سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(385) قریبی رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینے کا حکم

  • 1189
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-11
  • مشاہدات : 955

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
قریبی رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینے کے بارے میں کیا حکم ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قریبی رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینے کے بارے میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

اس بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ ہر وہ قریبی رشتہ دار، جس کا نفقہ زکوٰۃ دینے والے پر واجب ہے، اسے زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی جو اس سے رفع نفقہ کا سبب بنے اور اگر قریبی رشتہ دار ایسا ہو، جس کا نان نفقہ زکوٰۃ دینے والے پر واجب نہ ہو، مثلاً: بھائی جب کہ زکوٰۃ دینے والے کے اپنے بیٹے موجود ہوں، کیونکہ بھائی کے جب اپنے بیٹے موجود ہوں تو پھر بھائی کا نفقہ اس پر واجب نہیں ہے جیسا کہ بیٹوں کی موجودگی میں بھائی وارث نہیں بن سکتا تو اس صورت میں بھائی اگر مستحق ہو تو اسے زکوٰۃ دینا جائز ہے۔ اس طرح انسان کے اگر ایسے قریبی رشتہ دار ہوں، جو نفقے کے لیے تو زکوٰۃ کے محتاج نہ ہوں مگر ان کے ذمہ قرض ہو، تو ان کے قرضوں کو ادا کرنے کے لیے انہیں زکوٰۃ دینا جائز ہے، خواہ قریبی رشتہ دار باپ ہو یا بیٹا یا بیٹی یا ماں بشرطیکہ ان قرضوں کا سبب نفقے میں کوتاہی نہ ہو۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص کے بیٹے سے ایکسیڈنٹ ہوگیا اور جس گاڑی کو اس نے نقصان پہنچایا، اس کا اس پر تاوان آپڑا، اب اس کے پاس تاوان ادا کرنے کے لیے مال نہیں فراہم نہ تھا تو اس تاوان کو ادا کرنے کے لیے باپ زکوٰۃ کو استعمال کر سکتا ہے کیونکہ اس تاوان کا سبب نفقہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسے معاملے کی وجہ سے واجب ہوا ہے جس کا نفقے سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح ہر وہ شخص جس نے کسی ایسے قریبی رشتہ دار کو زکوٰۃ دے دی جسے دینا اس کے لیے واجب نہ تھا تو اس صورت میں اسے زکوٰۃ دینا جائز ہے۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ ارکان اسلام

نمازکے مسائل  

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ