سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(69) ارشاد باری تعالیٰ﴿لَاتَجِدُ قَومًا..﴾ کے معنی

  • 11876
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-21
  • مشاہدات : 611

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

الحمد اللہ وبعد: بحوث علمیہ وافتا کی فتوی کمیٹی کو سلمان بن عثمان جویوبو کی طرف سےیہ سوال موصول ہوا  ہے کہ اس آیت کریمہ﴿لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ﴾...المجادله :22 کی تفسیر بیان فرمادیں کیونکہ بعض لوگ بعض دوسروں حتی کہ حتی کہ اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں پرکفر کے فتوےلگادیتے ہیں خواہ وہ نماز پڑھتے  روزے رکھتے اور غیروں کوکافر سمجھتے ہوں لہذا اس آیت کے معنی بیان فرمادیں؟ کمیٹی نے اس سوال کا حسب ذیل جواب دیا :


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول حضرت محمدﷺ کویہ خبر دی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اورآخرت کےدن ایمان لائے اپنے دلوں کو اللہ کے لیے خالص کرلیا اپنے چہروں کو اپنے رب کے سامنے جھکادیا  اللہ تعالیٰ  نے جو حکم دیا اس کے سامنے انہوں  نےسر اطاعت  خم کر دیا  اور جس چیز سے انہیں روکا اس  سے وہ فورارک گئے نیز اللہ تعالیٰ نے  ان لوگوں  کی مذمت بھی کی ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی مخالفت کرنے اورنبی ﷺ کے لائے ہوئے دین  وشریعت سے اعراض کرنے والوں سے محبت رکھتے ہیں مگر مخلص مومن اور سچے لوگ خواہ زمانہ کتنی ہی کروٹیں کیوں نہ لےلے اوربصر ونظر کے زاویے کیسے ہی تبدیل کیوں نہ ہوجائیں وہ ان کافروں سے محبت  نہیں کرسکتے خواہ وہ نسب  کے اعتبار سے ان کے کتنے ہی قریب نہ ہوں خواہ وہ ان کےباپ بیٹے بھائی اورقریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ۔ اس آیت کریمہ میں  اللہ تعالیٰ نے اپنے ان پاکباز بندوں کا بڑے خوبصورت انداز میں تذکرہ فرمایا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ  اور اس کے رسول ﷺ کی تصدیق کی اورنبی اکرمﷺجس ہدایت ونور پرمبنی شریعت کو لےکرآئے اس کی پابندی کی۔ انہیں ترغیب بھی دی گئی ہے کہ وہ اپنے اس موقف پر ثابت قدم رہیں اور اس میں مزید پختگی پیداکریں لوگوں کو حکم دیا گیا ہےکہ ہ بھی انہی کی سیرت کو مشعل راہ بنائیں اخلاص اور صدق ایمان کی اس روش کو اختیارکریں جو ان کاطرہ امتیاز تھی اور ان منافقوں  کے طرز عمل  سے پرہیز کریں جنہوں نے ایسے یہودیوں کو اپنا دوست بنالیا تھا جن پر اللہ کا غضب نازل ہواتھا اور وہ لوگ رسول اللہﷺ کو خوش کرنےکےلیے آپ کے سامنے آکرجھوٹی قسمیں کھانے لگ جاتے  تھے اور کہتے تھے:

﴿ نَشهَدُ إِنَّكَ لَرَ‌سولُ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ يَعلَمُ إِنَّكَ لَرَ‌سولُهُ وَاللَّهُ يَشهَدُ إِنَّ المُنـٰفِقينَ لَكـٰذِبونَ ﴿١﴾... سورةالمنافقون

’’  ہم اس بات کے گواه ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ اس کے رسول ہیں۔ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں  ‘‘

یہ جملہ سچے مومنوں کی ثناء پر مشتمل ہے کہ وہ کافروں سےبرہیں نیز ان کی مودت ومحبت سے انہیں منع بھی کردیا گیا ہےجیساکہ  ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿لا يَتَّخِذِ المُؤمِنونَ الكـٰفِر‌ينَ أَولِياءَ مِن دونِ المُؤمِنينَ ۖ وَمَن يَفعَل ذ‌ٰلِكَ فَلَيسَ مِنَ اللَّهِ فى شَىءٍ إِلّا أَن تَتَّقوا مِنهُم تُقىٰةً...﴿٢٨﴾... سورة آل عمران

’’ مومنوں کو چاہئے کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں اور جوایسا کرے گا وه اللہ تعالیٰ کی کسی حمایت میں نہیں مگر یہ کہ ان کے شر سے کسی طرح بچاؤ مقصود ہو، ‘‘

اور فرمایا:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذوا ءاباءَكُم وَإِخو‌ٰنَكُم أَولِياءَ إِنِ استَحَبُّوا الكُفرَ‌ عَلَى الإيمـٰنِ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِنكُم فَأُولـٰئِكَ هُمُ الظّـٰلِمونَ ﴿٢٣ قُل إِن كانَ ءاباؤُكُم وَأَبناؤُكُم وَإِخو‌ٰنُكُم وَأَزو‌ٰجُكُم وَعَشيرَ‌تُكُم وَأَمو‌ٰلٌ اقتَرَ‌فتُموها وَتِجـٰرَ‌ةٌ تَخشَونَ كَسادَها وَمَسـٰكِنُ تَر‌ضَونَها أَحَبَّ إِلَيكُم مِنَ اللَّهِ وَرَ‌سولِهِ وَجِهادٍ فى سَبيلِهِ فَتَرَ‌بَّصوا حَتّىٰ يَأتِىَ اللَّهُ بِأَمرِ‌هِ ۗ وَاللَّهُ لا يَهدِى القَومَ الفـٰسِقينَ ﴿٢٤﴾... سورة التوبة

’’ اے ایمان والو! اپنے باپوں کو اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ بناؤ اگر وه کفر کو ایمان سے زیاده عزیز رکھیں۔ تم میں سے جو بھی ان سے محبت رکھے گا وه پورا گنہگار ظالم ہے۔()آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکےاور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وه تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وه حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راه میں جہاد سے بھی زیاده عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا عذاب لے آئے۔ اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔‘‘

اور فرمایا:

﴿قَد كانَت لَكُم أُسوَةٌ حَسَنَةٌ فى إِبر‌ٰ‌هيمَ وَالَّذينَ مَعَهُ إِذ قالوا لِقَومِهِم إِنّا بُرَ‌ء‌ٰؤُا۟ مِنكُم وَمِمّا تَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ كَفَر‌نا بِكُم وَبَدا بَينَنا وَبَينَكُمُ العَد‌ٰوَةُ وَالبَغضاءُ أَبَدًا حَتّىٰ تُؤمِنوا بِاللَّهِ وَحدَهُ إِلّا قَولَ إِبر‌ٰ‌هيمَ لِأَبيهِ لَأَستَغفِرَ‌نَّ لَكَ وَما أَملِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن شَىءٍ ۖ رَ‌بَّنا عَلَيكَ تَوَكَّلنا وَإِلَيكَ أَنَبنا وَإِلَيكَ المَصيرُ‌ ﴿٤﴾... سورة الممتحنة

’’ (مسلمانو!) تمہارے لیے حضرت ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں۔ ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ لاؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کے لیے بغض وعداوت ظاہر ہوگئی لیکن ابراہیم کی اتنی بات تو اپنے باپ سے ہوئی تھی کہ میں تمہارے لیے استغفار ضرور کروں گا اور تمہارے لیے مجھے اللہ کے سامنے کسی چیز کا اختیار کچھ بھی نہیں۔ اے ہمارے پروردگار تجھی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے  ۔‘‘

علاوہ ازیں اور بہت سی آیات اورنصوص کتاب وسنت ہیں جن مسلمانوں کو یہود ونصاری اوردیگر کفارکو دوست بنانےسے منع کیاگیا ہے کیونکہ ان  پر اللہ تعالیٰ کاغضب نازل ہوا اور ان  اہل کتاب  اور دیگر تمام کفار نے اللہ تعالیٰ نے دین کےدین کو مذاق بنالیا تھا۔

یہ اللہ تعالیٰ نےدل  کے اعمال یعنی محبت ومودت کافروں سےبراءت اور ان سےبغض اور انہوں نےجن گمراہیوں اورضلالتوں کا ارتکاب کیا  ان سے بعض کا حکم بیان فرمایا ہے۔جہاں تک دنیون معاملات مثلا خرید وفروخت اور دیگر منافع کے تبادلہ کا تعلق ہے تویہ سیاست شرعیہ اور اقتصادی پہلوؤں کےتابع ہیں کہ ہمارے اورجن کافروں کے مابین صلح ہوتو ان کےساتھ منافع مثلا بیع اجارہ کرائے کے معاملات تحائف کاقبول کرناکوئی چیز ہبہ کرنا  اور دستور اور معروف کے مطابق انہیں تحائف دینا جائز ہے تاکہ عدل وانصاف اورمکارم اخلاق کے تقاضوں کو پورا کیاجاسکے بشرطیکہ اس سے کسی شرعی اصول کی مخالفت لازم آتی ہو اور انسان ان معاملات کے طریقوں سےباہر نہ ہو جنہیں اسلام نےحلال قرار دیا ہے‘

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ لا يَنهىٰكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذينَ لَم يُقـٰتِلوكُم فِى الدّينِ وَلَم يُخرِ‌جوكُم مِن دِيـٰرِ‌كُم أَن تَبَرّ‌وهُم وَتُقسِطوا إِلَيهِم ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُقسِطينَ ﴿٨﴾... سورة الممتحنة

’’ جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک واحسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ۔‘‘

اور جن کافروں سے ہماری  جنگ ہویا جو ہم سےزیادتی کریں تو ان سے دنیوی معاملات میں  بھی دوستی کرنا جائز نہیں ہےبلکہ یہ بھی اسی طرح حرام ہے ‘جس طرح ان سے محبت واخوت کامعاملہ کرنا حرام ہے‘ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿إِنَّما يَنهىٰكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذينَ قـٰتَلوكُم فِى الدّينِ وَأَخرَ‌جوكُم مِن دِيـٰرِ‌كُم وَظـٰهَر‌وا عَلىٰ إِخر‌اجِكُم أَن تَوَلَّوهُم ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم فَأُولـٰئِكَ هُمُ الظّـٰلِمونَ ﴿٩﴾... سورة الممتحنة

’’ اللہ تعالیٰ تمہیں صرف ان لوگوں کی محبت سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائیاں لڑیں اور تمہیں شہر سے نکال دیئے اور شہر سے نکالنے والوں کی مدد کی جو لوگ ایسے کفار سے محبت کریں وه (قطعاً)  ظالمہیں ۔‘‘

رسول اللہ ﷺ نےصلح اورجنگ کی حالتوں میں مدینہ اور خیبر  کے یہودیوں اور عیسائیوں اور دیگر کفار کے ساتھ معاملات میں اس کی اپنے سے وضاحت فرمادیں تھی‘ پھر اللہ تعالی نے ان سب کو بیان فرمادیا ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کو کافروں سےبغض ہوتا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿أُولـٰئِكَ كَتَبَ فى قُلوبِهِمُ الإيمـٰنَ وَأَيَّدَهُم بِر‌وحٍ مِنهُ...﴿٢٢﴾... سورة المجادلة

’’  یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا ہے اور جن کی تائید اپنی روح سے کی ہے۔‘‘

یہ لوگ جنہوں نےاللہ اور اس کے رسول کی تصدیق کی یہ وہ لوگ ہیں جن کےدلوں میں اللہ تعالیٰ نےایمان کےنور سےکرن کرن اجالا کردیا اوربرہان نور اورہدایت کے ساتھ ان کے جسموں اور جانوں میں ایمان کو پختہ کردیا  جس کی وجہ سے ان کی اللہ تعالیٰ کے دوستوں سے دوستی اور اس کے دشمنوں سے دشمنی ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی شریعت  کو اپنے لیے اختیار کرلیا ہےجسے اللہ تعالیٰ نےان کےلیے دین کے طور پر پسند فرمایا ہے اورپھر وہ اس کی ان کو جو جزا عطا فرمائے گا اسے اس نےاس طرح بیان فرمایا ہے:

﴿وَيُدخِلُهُم جَنّـٰتٍ تَجر‌ى مِن تَحتِهَا الأَنهـٰرُ‌ خـٰلِدينَ فيها ۚ رَ‌ضِىَ اللَّهُ عَنهُم وَرَ‌ضوا عَنهُ... ﴿٢٢﴾... سورة المجادلة

’’  اور جنہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہے اور یہ اللہ سے خوش ہیں ‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ اپنےفضل وکرم سے ان پر یہ احسان فرمائے گا کہ انہیں ایسے باغات میں  داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں رواں دواں ہوں گی اور ان جنتوں میں ایسی ایسی عظیم الشان ابدی اورسرمدی نعمتیں ہوں گی ‘جنہیں کبھی کسی آنکھ نےدیکھانہیں ہوگا کبھی کسی کان نےسنانہیں ہوگا اور نہ کبھی کسی بشر کے دل میں ان کاخیال آیاہوگا۔ ان نعمتوں سےاللہ تعالیٰ کےیہ مخلص اور پاکباز بندے فیض یاب ہوں گے اور ابد الاباد تک   ان نعمتوں بھری جنتوں میں رہیں گےنہ کبھی جس کی نعمتیں ختم ہوں گی اور نہ کبھی ان سےنکالا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوچکا گا اس لیے کہ ان کاایمان سچا اور ان کا عمل صالح تھا۔ اور یہ بندگان الہی بھی اپنے رب کےفیصلوں احکام اور اس کی طرف سے ملنے والی جزا سے راضی ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی وہ  حمدثناء بیان کریں گے جس کا وہ اہل ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورہ مبارکہ کا اختتام ان الفاظ پر  فرمایا ہے:

﴿ أُولـٰئِكَ حِزبُ اللَّهِ ۚ أَلا إِنَّ حِزبَ اللَّهِ هُمُ المُفلِحونَ ﴿٢٢﴾... سورة المجادلة

’’  یہ خدائی لشکر ہے، آگاه رہو بیشک اللہ کے گروه والے ہی کامیاب لوگ ہیں ‘‘

 اللہ سبحانہ  وتعالیٰ نےہمیں  یہ خبر دی ہے کہ اس کا لشکر وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اس کی اطاعت  بجالا کر اس کی دوستی کاثبوت دیا  اور اس نے دنیا وآخرت  میں انہیں فتح ونصرت اور اپنے فضل وکرم  سے نواز کران کی دوستی کا دوستی سے جواب دیا ہے لہذا  یہ لوگ کامیاب وکامران ہیں اور ان کے مقابلے میں وہ لوگ نام ونا مراد ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کودھوکا دینا چاہا اور جو کافروں کی  دوستی کا دم بھرتے رہے۔ اس سے تفصیل درج ذیل امور واضح ہوتے ہیں:

(1)جو  شخص کافروں سے دوستی  اور محبت رکھے وہ کافر اوردائرہ اسلام سے خارج ہے۔

(2) جو دل میں کافروں سے بغض رکھے مگر شریعت کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے ان سے  خرید وفروخت اجارہ اور کرایہ وغیر ہ کے معاملات کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں   ہے۔

(3)جو شخص اللہ کے لیے کافروں سے بغض تورکھے مگر کسی دنیوی مصلحت کی وجہ سے ان کے درمیان زندگی بسر کرے اور مسلمانوں کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی بجائے ان کے ساتھ تعاون کاموجب  ہے اور پھر اس نے اپنے  آپ کو فتنوں کےلیے پیش کردیا  اور مسلمانوں کے ساتھ شعائراسلام کے اداکرنے ان میں حاضر ہونے ان کی مشاورت اور ہمدردی وخیر خواہی کرنےسے اپنے آپ کو محروم کرلیا ہے حالانکہ یہ امر امت اسلامیہ کےلیے قوت اور دنیا وآخرت میں سعادت کے حصول کاموجب تھا الایہ کہ ایسے شخص کو علم ہوکہ وہ کفارمیں  رہنے کے باوجود اپنے آپ  کو فتنوں میں مبتلا ہونے سے بچائے رکھے گا اور کفار کے ہاں اس کو موجودگی ان میں  دعوت اسلام کی نشر اشاعت کاموجب ہوگی۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص67

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ