سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(380) محض تقسیم کنندہ مستحق زکوٰۃ نہیں بن سکتا

  • 1184
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-11
  • مشاہدات : 544

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک دولت مند شخص نے اپنی زکوٰۃ ایک شخص کے پاس بھیجی اور اس سے کہا کہ تمہاری نظر میں جو مستحق ہوں، ان میں اسے تقسیم کر دو تو کیا یہ وکیل بھی عاملین زکوٰۃ میں شمار ہو کر زکوٰۃ کا مستحق ہوگا؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک دولت مند شخص نے اپنی زکوٰۃ ایک شخص کے پاس بھیجی اور اس سے کہا کہ تمہاری نظر میں جو مستحق ہوں، ان میں اسے تقسیم کر دو تو کیا یہ وکیل بھی عاملین زکوٰۃ میں شمار ہو کر زکوٰۃ کا مستحق ہوگا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

یہ وکیل عاملین اور مستحقین زکوٰۃ میں سے نہیں گرداناجائے گا کیونکہ یہ تو ایک خاص شخص کا خاص وکیل ہے اور قرآنی اندازبیان ﴿وَالْعَامِلِيْنَ عَلَيْهَا﴾ میں شاید یہی رازپنہاں ہے۔ واللہ اعلم۔ کیونکہ حرف علیٰ ایک طرح سے ولایت کی ایک قسم کا فائدہ دیتا ہے گویا کہ عاملین، قائمین کے معنی میں ہیں، لہٰذا جو شخص کسی معین انسان کی طرف سے زکوٰۃ تقسیم کرنے میں نیابت کے فرائض انجام دیتا ہے، وہ عاملین زکوٰۃ میں شمار نہیں ہو سکتا۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ ارکان اسلام

نمازکے مسائل  

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ