سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(48) قرآن کریم کی تلاوت کےبعد ’’ صدق الله الْعَظِيم‘‘ کہنا

  • 11836
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-20
  • مشاہدات : 505

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قرآن کریم کی تلاوت کے بعد’’ صدق الله الْعَظِيم‘‘  کہنے کے بارےمیں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

’’ صدق الله الْعَظِيم‘‘ ایک ایسا کلمہ  ہے جو اللہ تعالیٰ کے ثناء  شمار ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ثناء کا کلمہ عبادات میں  سے شمار ہوتا ہے کیونکہ   اس  پر انسان کو اجر وثواب ملتا ہے  لیکن  انسان کے لیے  یہ جائز نہیں کہ وہ عبادت کی کوئی بھی  ایسی صورت اختیار کرے جس  کا اللہ تعالیٰ اور اس کےرسول نے حکم نہ دیا ہو۔

تلاوت قرآن  کے اختتام  پر’’ صدق الله الْعَظِيم‘‘  کہنے  کاشریعت نے حکم نہیں دیا اور   ہمارے علم کی حد تک رسول اللہ ﷺ یا صحابہ کرام  سےبھی   کسی سےیہ ثابت نہین ہے بلکہ نبی ﷺ نے ایک بار حضرت عبداللہ بن مسعود ﷜ کو حکم  دیاتھ ا کہ وہ آپ کو سورۃ  النساء سنائیں جب  وہ اس  آیت پر پہنچے:

﴿فَكَيفَ إِذا جِئنا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهيدٍ وَجِئنا بِكَ عَلىٰ هـٰؤُلاءِ شَهيدًا ﴿٤١﴾... سورة النساء

’’  پس کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہر امت میں سے ایک گواه ہم لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواه بناکر لائیں گے ‘‘

تورسوال اللہﷺ نےفرمایا ہے : حسبک (بس کافی ہے) اور اس کےبعد ابن مسعود ﷜ نےتلاوت  کوبند کردیا۔

(صحيح البخاري فضائل القرآن باب قول المقري  للقاري : حسبك حديث:5050۔

صحيح مسلم صلاة المسافرين باب فضل استماع القرآن ___ حديث:800)

نبیﷺ سےیہ قطعا  ثابت نہیں کہ آپ  نے اس  آیت یاکسی دوسری آیت کے بعد کہا ہو’’ صدق الله الْعَظِيم‘‘ اورنہ ہی آپﷺ  اورنہ ہی آپﷺ نےیہ کلمہ کہنے کاحکم دیا لہذا آدمی کو یہ  کلمہ نہیں کہناچاہیے ۔ بعض لوگ یہ گمان کرتے ہین کہ یہ کلمہ ارشادباری تعالیٰ:

﴿قُل صَدَقَ اللَّهُ ۗ فَاتَّبِعوا مِلَّةَ إِبر‌ٰ‌هيمَ حَنيفًا...﴿٩٥﴾... سورة آل عمران

’’ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ سچا ہے تم سب ابراہیم حنیف کے ملت کی پیروی کرو،  ‘‘

سے ماخوذ ہےتو یہ بات صحیح نہیں ہے کیونکہ  یہ نبی ﷺ کو تبارک وتعالیٰ کی طرف سےحکم ہے کہ آپ اللہ اور کی تکذیب کرنےوالوں تک یہ بات پہچادیں کہ اللہ تعالیٰ نےاپنے رسولوں کی طرف  جو وحی بھیجی ہے اس  میں وہ سچا ہے۔ ہم مسلمان  سےیہ  نہیں کہتے  کہ وہ ’’ صدق الله الْعَظِيم‘‘ نہ کہے۔ بلکہ ضرور کہےلیکن اسے دل میں کہے اورزبان سے سے بھی کہ  سکتا ہے مگر تلاوت  کے اختتام  کےساتھ  اس کلمہ کی تعین اور تخصیص نہ کرے کیوں کہ یہ شریعت میں ثابت نہیں ۔ یہ بات سبھی جانتےہیں کہ یہ واجب ہے کہ انسان اپنےدل اورزبان سے کہے ’’ صدق الله الْعَظِيم‘‘ اوریہ  عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ سےبڑھ کر اور کوئی بات میں سچا نہیں ہے جیساکہ  اس  نےفرمایا ہے:

﴿وَمَن أَصدَقُ مِنَ اللَّهِ حَديثًا ﴿٨٧﴾... سورةالنساء

’’  اللہ تعالیٰ سے زیاده سچی بات والا اور کون ہوگا  ‘‘

بہر حال مذکورہ  بالا آیت قطعا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ تلاوت کے اختتام پر انسان زبان سے ’’ صدق الله الْعَظِيم‘‘ کہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص49

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ