سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(130) مصحف یا دینی کتاب بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت اپنے پاس رکھ سکتا ہے؟

  • 11835
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-20
  • مشاہدات : 918

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کسی کے پاس مصحف شریف یا کتاب ہو یا کوئی کاغذ جس میں آیات و احادیث لکھی ہوں تو بیت الخلاء میں داحل ہوتے وقت اپنے پاس رکھ سکتا ہے؟ ۔اخوکم شوکت۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایک مسلمان کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کا احترام کرے  اور اگر کسی ورق میں آیات و احادیث  یا اذکار لکھے ہوں تو اس کی اہانت نہ کرے اوربیت الخلا ء میں داخل ہونے سے پہلے کسی پاک جگہ رکھ دےاس مسئلے کے لئے کوئی دلیل ذکر کرنے کی ضرورت نہیں کیو نکہ یہ دین کی بدیہی طور پر معلوم چیزوں میں سے ہے۔اس کے باوجود امام ابوداؤد نے (1؍4)  باب الخاتم یکون فیہ ذکر اللہ تعالیٰ یدخل بہ الخلاء ‘‘میں کہا ہے کہ انس ﷜ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو اپنی انگوٹھی رکھ دیتے تھے اس کی سند ضعیف ہے امام ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے ۔ مراجعہ کریں  المشکوٰۃ (1؍11)(رقم :343)اور فتاویٰ اللجنہ (4؍40) میں ہے:

؛؛سوال:اگر کوئی  مصحف اپنی جیب میں رکھ کر بیت الخلاء میں ہوتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟

سوال : اگر کوئی مصحف جیب میں رکھ کر بیت الخلاء میں  داخل ہوتا تو اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب: الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ ﷺاما بعد۔

مصحف کا جیب میں رکھنا جائز ہے لیکن مصحف سمیت بیت الخلاء میں داخل ہونا جائز نہیں بلکہ مصحف کو اس کی تعظیم  و احترام کا خیال رکھتے ہوئے  مناسب جگہ پر رکھ دیں ۔لیکن اگر باہر رکھنے میں چوری کا اندیشہ ہو تو بوجہ مجبوری کے ساتھ رکھنا جائز ہے ۔

دوسرا سوال :میں مصحف اپنی جیب میں رکھتا ہوں جب میں استنجاء خانے  میں داخل ہوا تو بھول گیا کہ مصحف میری جیب  میں ہے’ تو اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب: الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ ﷺاما بعد۔

جب واقعہ نسیان کا ہو جیسے آپ نے ذکر کیا ہے  تو آپ پر کوئی گناہ نہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص299

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ