سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(38) ریڈیو سے قرآن مجید سننا

  • 11826
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-20
  • مشاہدات : 532

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ریڈیو سے قرآن مجید  سننے کےبارے میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ریڈیو تو ایک الہ ہے  اس کےبارے مین  تو کوئی حکم نہین ہے بلکہ حکم اس چیز کا ہے جو اس سے  نشر کی جاتی ہے لہذا ریڈیو سے  اگر قرآن مجید یا  اللہ کی شریعت کے احکام یا ایسے مواعظ جن کےدلوں میں گداز پید ہوتا ہو یا ایسی سچی  سیاسی خبریں جن سۃلوگ افراد اور ملکوں کے حالات معلوم کرسکیں اور وہ دوستوں اور دشمنوں کےبارے میں صحیح موقف  اختیار کر سکیں یا اس طرح  کی دیگر اچھی باتیں نشر کیے جائیں تو پھر ریڈیو کو سننا بہتر ہے بلکہ کبھی کبھی اسے سننا  واجب بھی ہوجاتا ہے اور اگر ریڈیو سےایسے فحش گانے نشر کیے جائیں جن میں بے شرمی  وبے حیائی کی باتیں ہوں یا ایسی جھوٹی سیاسی خبریں  نشر کی جائیں  جن سے مقصود حقائق کو بدلنا  لوگوں کو دجل وفریب میں مبتلا کرنا اور جھوٹ گناہ اوربہتان کے ذریعے سےلوگوں کےجذبات  کوبھڑکانا ہوتو اس طرح کی باتیں نشر کرنا  باطل ہے لہذا ایسی باتوں سےنہ توسکوت اختیار کرنا چاہیے الا یہ کہ ان  جھوٹی خبروں  فاسد آراء اورباطل اقوال  کے سننے والے انہیں اس لیے سنیں کہ  وہ ان کےجھوٹ اور دجل  وفریب کو واضح کرسکیں اور امت کو ان کی تباہ کاریوں سےبچاسکیں اور ان لوگوں کو محفوظ رکھ سکیں جن کے ان کی چکنی چپڑی باتوں سے مبتلائے فریب ہونے کا اندیشہ ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص42

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ