سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

کیا نبی کریم کے وسیلے سے دعا کی جاسکتی ہے۔؟

  • 11811
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-20
  • مشاہدات : 458

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میراایک دوست کہتا ہے کہ سورہ توبہ کی آیات 73 / 74 میں ہے کہ الله ا ور اس کا نبی اپنے فضل سے دیتے ہیں؟ کیا ان آیات کی روشنی میں نبی کریم کے وسیلے سے دعا کر سکتے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نہیں کی جا سکتی ہے،ان آیات کا یہ مفہوم ہر گز نہیں ہے ۔ان آیات مبارکہ کی تفسیر میں حافظ صلاح الدین یوسف لکھتے ہیں۔

مسلمانوں کی ہجرت کے بعد، مدینہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے وہاں تجارت اور کاروبار کو بھی فروغ ملا، اور اہل مدینہ کی معاشی حالت بہت اچھی ہوگئی تھی۔ منافقین مدینہ کو بھی اس کا خوب فائدہ حاصل ہوا اللہ تعالٰی اس آیت میں یہی فرما رہا ہے کہ کیا ان کو اس بات کی ناراضگی ہے کہ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے غنی بنا دیا ہے، بلکہ ان کو تو اللہ تعالٰی کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے انہیں تنگ دستی سے نکال کر خوش حال بنا دیا۔

نیز آپ یاد رکھیں کہ صرف تین طرح کا وسیلہ جائز ہے ،جس کی تفصیل فتوی نمبر (11198) میں دیکھیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ