سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(16) سورۃ توبہ میں ترک بسم اللہ کے اسباب

  • 11794
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-19
  • مشاہدات : 3246

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سورۃ توبہ کو دوسری  سورتوں کی طرح  بسم اللہ سے کیوں شروع نہیں کیا گیا اس  سورت کی تلاوت کے وقت یہ کہنا کہ«أعوذ بالله من النار، ومن شركفار ومن غضب الجبار، العزة لله ولرسوله » صحيح ہے یانہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سورۃ  براءت (توبہ کےآغاز میں  اس  دعا  کا پڑھنا جو آپ نے ذکر کی ہے  بدعت ہے ‘ اس کا کوئی ثبوت نہیں  لہذا اسے اس  سورے میں  شروع  میں نہیں پڑھناچاہیے۔ میں  نے پنےبچپن  میں  ان الفاظ کو قرآن مجید کےبعض نسخوں کے حاشیہ پر لکھا ہے لہذا جو شخص ان الفاظ کو قرآن مجید کے حاشیہ پر لکھا ہوا دیکھے تو  اس کےلیے واجب ہے کہ وہ ان کو مٹاد ےکیونکہ یہ الفاظ بدعت ہیں۔ اس سورت کے شروع میں  ان کا پڑھنانبی اکرم ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔

جہاں تک اس سوال کی پہلی شق کا تعلق ہے کہ اس سورت کو بسم اللہ سےکیوں شروع  نہیں کیا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سورت  اسی  کرح بسم اللہ کے بغیر ہی نازل ہوئی ہے۔ اگر اس کےساتھ بھی بسم اللہ  سے کیوں شروع  نہیں کیا گیا تو اس کا جواب یہ  ہے کہ یہ سورت اسی طرح بسم اللہ کے بغیر ہی نازل ہوئی ہے۔ اگر اس کے ساتھ بھی بسم اللہ نازل ہوئی ہوئی تو وہ بھی آج موجود اور محفوظ ہوتی کیونکہ  للہ تعالیٰ نےقرآن مجید کی حفاظت  کا ذمہ  آٹھایا ہوا ہے‘ارشاد ربانی ہے:

﴿إِنّا نَحنُ نَزَّلنَا الذِّكرَ‌ وَإِنّا لَهُ لَحـٰفِظونَ ﴿٩﴾... سورة الحجر

 ’’ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں‘‘

نبی اکرم ﷺ سےبھی  یہ سورت  اسی طرح بسم اللہ  کےبغیر ہی منقول ہے۔ صحابہ کرام ﷢ کو بھی  اس  مسئلہ میں بھی یہ مشکل پیش آئی تھی جیساکہ سیدنا عثمان﷜ سےمروی ہے کہ سہ سورت  کیا ایک  مستقل سورت ہے یا  یہ سورۃ انفال   ہی کا بقیہ حصہ ہے۔ لہذا انہوں نے دونوں  سورتوں کو الگ الگ تو کردیا۔لیکن درمیان میں بسم اللہ نہ لکھی۔ دونوں سورتوں کو الگ الگ کرنا دراصل دو حکموں کے درمیان ایک حکم تھا۔ یعنی اگر یہ بات ثابت  ہوجاتی کہ یہ سورۃ  الانفال ہی کا بقیہ ہے  تو پھر حد فاصل اور بسم اللہ کی ضرورت نہ تھی اور اگر یہ ثابت ہو جاتا کہ یہ مستقل سورت ہے تو پھر  حد فاصل اور بسم اللہ دونوں کی ضرورت تھی لیکن ان میں کوئی بات ثابت نہ ہوسکی تو صحابہ کرام ﷢ نے حدفاصل اور بسم اللہ تو قائم کردی لیکن بسم اللہ نہ لکھی اوریہ ایک صحیح اجتہاد تھا۔(ابوداود الصلاۃ باب من جھربھا حدیث:786۔ترمذی تفسیر القرآن باب9ومن سورۃ التوبہ حدیث:3086)

میں علم  الیقین کےساتھ یہ بات کہ سکتا ہوں کہ اگر اس سورت کے شروع میں بھی بسم اللہ نازل ہوئی ہوتی تو یقینا اب تک موجود اورمحفوظ ہوتی کیونکہ ارشاد ہے:

﴿إِنّا نَحنُ نَزَّلنَا الذِّكرَ‌ وَإِنّا لَهُ لَحـٰفِظونَ ﴿٩﴾... سورة الحجر

’’ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں‘‘

لہذا سورۃ براءۃ کی تلاوت شروع کرتےوقت ’’ بسم اللہ الرحمان الرحیم‘‘ پڑھنا مشروع نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص29

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ