سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(15) تلاوت کےبعد (صدق الله الْعَظِيم) کہنا

  • 11793
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-19
  • مشاہدات : 858

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قرآن مجید کی تلاوت کے بعد«صدق الله الْعَظِيم »  کہنے کے بارےمیں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرآن مجید کی تلاوت  کے بعد«صدق الله الْعَظِيم» کہنے کا سنت  سے یا صحابہ  کرام ﷢ کے عمل سے کوئی ثبوت نہیں ہے بلکہ یہ کہنے کارواج عہد صحابہ﷢ کےبہت  اسی  آخری دور میں ہوا ہے ۔ لاریب قائل کا «صدق الله الْعَظِيم»  اللہ تعالیٰ کی ثناءاور اس کی عبادت ہے اور جب یہ عبادت ہے تو پھر یہ جائز نہیں کہ ہم شرعی دلیل  کےبغیر اللہ تعالیٰ  کی عبادت کا کوئی طریقہ  ایجاد کریں اور جب ان الفاظ کے کہنے کی کوئی دلیل نہین ہے تو معلوم ہواکہ ان الفاظ کے ساتھ تلاوت کو ختم کرنا مشروع  اور مسنون نہیں ہے  لہذا تلاوت ختم کرنے کے بعد «صدق الله الْعَظِيم»   نہیں کہنا چاہیے۔

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کیا  اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا﴿قُلْ صَدَقَ اللَّهُ..﴾(آل  عمرآن آیت:95)  تو اس کا جوب یہ ہے کہ ہاں ! اللہ تعالیٰ نے یہ اور ہم بھی یہی  کہتے ہیں کہ «صدق الله »  لیکن  سوال یہ  ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نےیہ فرمایا ہے کہ جب تم تلاوت ختم کرو تو یہ کہو«صدق الله الْعَظِيم» نبی اکرمﷺ بھی  قرآن مجید کی تلاوت  فرمایا کرتے تیہآ لیکن  یہ ثابت نہیں کہ  آپ نے تلاوت کے بعد «صدق الله الْعَظِيم»   کہا ہو‘ ابن مسعود ﷜ نےکہا آپ سورۃ النساء کی تلاوت  سنائی اور جب  وہ اس آیت پر پہنچے:

﴿فَكَيفَ إِذا جِئنا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهيدٍ وَجِئنا بِكَ عَلىٰ هـٰؤُلاءِ شَهيدًا ﴿٤١﴾... سورة النساء

’’پس کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہر امت میں سے ایک گواه ہم لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواه بناکر لائیں گے‘‘

تو آپ نے فرمایا:’’بس اتنی تلاوت  ہی کافی ہے‘‘(صحیح بخاری فضائل القرآن باب  قول المقری للقاری :حسبک حدیث:5050)

آپ نے ابن مسعود ﷜ سے یہ  نہیں  فرمایا تھا کہ اب کہو «صدق الله الْعَظِيم»

اور نہ ہی ابن مسعود ﷜ نے از خود ہی یہ الفاظ  کہے تھے۔یہ  حدیث بھی  اس بات کی دلیل ہے کہ تلاون کے اختتام پر«صدق الله الْعَظِيم »کہہ دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے کلام کی تصدیق کے قبیل سے ہوگی۔ مثلا آپ گر کسی شخص کودیکھیں کہ وہ اپنے رب کی طاعت  وبندگی  بجالانے کی اپنی اولاد کے ساتھ مشغول  ہے تو  آپ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نےسچ فرمایا ہے:

﴿إِنَّما أَمو‌ٰلُكُم وَأَولـٰدُكُم فِتنَةٌ ۚ...﴿١٥﴾... سورة التغابن

  ’’تمہارے مال اور اولاد تو سراسر تمہاری آزمائش ہیں‘‘

یا اسی طرح کی دیگر آیات سے استشہاد کرتے ہوئے یہ کہیں تو  اس میں کوئی حرج نہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص28

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ