سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(01) قرآن کریم اور اس کا احترام

  • 11773
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-19
  • مشاہدات : 936

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
آنجاب  سے امید ہے کہ آپ ہمیں اور ہمارے مسلمان بھائیوں کو قرآن کریم کے مقام سے آگاہ فرمائیں گے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آنجاب  سے امید ہے کہ آپ ہمیں اور ہمارے مسلمان بھائیوں کو قرآن کریم کے مقام سے آگاہ فرمائیں گے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرآن کریم اللہ تعالی ٰ کا وہ کلام ہے جسے اس نے  اپنے بندے اور رسول  سیدنا محمد ﷺ پرنازل فرمایا تاکہ  یہ قیامت   تک ساری کائنات کے لیے ہدایت ونور ثابت ہو۔ اللہ تعالی ٰ نے اس امت کے ابتدائی لوگوں کو بھی اور ان کے بعد  آنے والوں کو بھی یہ توفیق عطا فرمائی کہ انہوں  نے اسے  اپنے سینوں میں محفوظ کیا  زندگی کے تمام  امور ومعاملات میں اس کے  مطابق عمل کیا  چھوٹے بڑے ہر معاملے میں اس سے فیصلہ  چاہا ۔اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم بعض بندگان  الہی کے ہمیشہ شامل حال رہا ہےکہ وہ حسی ومعنوی طور پر قرآن کرین کی اس طرح تعظیم وتکریم بجالاتے ہیں جس طرح اس کا  حق ہے جب کہ بہت  سے لوگ اور بہت سی  جماعتیں بھی ہیں حو اگر چہ اپنے  آپ  کو اسلام ہی کی طرف منسوب کرتی ہیں لیکن وہ قرآن عظیم  اور  حدیث رسول ﷺ کے حق کو ادا کرنے سے  محروم ہیں لہذا مجھے خدشہ ہے کہ یہ لوگ کہیں اس  ارشاد باری تعالیٰ  کے مصداق نہ ہوں :

﴿وَقالَ الرَّ‌سولُ يـٰرَ‌بِّ إِنَّ قَومِى اتَّخَذوا هـٰذَا القُر‌ءانَ مَهجورً‌ا ﴿٣٠﴾... سورةالفرقان

اور رسول کہے گا کہ اے میرے پروردگار! بےشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘

آج بہت  سے  لوگوں نے واقعی  قرآن چھوڑ د کو رکھا ہے انہوں نے اس کی تلاوت کو چھوڑ دیا اس میں تدبر کو چھوڑ دیا  اور اس کے  مطابق عمل کو چھوڑدیا ۔«ولاحول وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ.»

اللہ رب العامین کے اس کلام کی تعظیم وتکریم کا جو تقاضا ہے بہت سے لوگ اس سے بھی غافل ہیں۔ آج کا مسلمان ملکوں میں   اخبارات  وجرائد کثرت سے شائع ہوتے ہیں جن کے ٹائیٹل پر یا اندرونی صفحات  میں قرآنی آیا ت ہوتی ہین لیکن بہت  سے  مسلمانوں  کی  عادت یہ ہے کہ وہ انہیں  پڑ ھنے کے بعد کوڑاکرکٹ میں پھینک دیتے ہیں  اور پاؤں تلے بھی یہ اخبارات  وجرائد آتے ہیں بلکہ بعض لوگ تو انہیں کچھ دیگر مقاصد کے لیے  بھی  استعمال کرتے ہین جس کے باعث یہ  نجاستوں اور غلاظتوں سے  آلودہ ہوجاتے ہیں حالانکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی کتاب کریم مین ارشاد فرمایا ہے:

﴿إِنَّهُ لَقُر‌ءانٌ كَر‌يمٌ ﴿٧٧ فى كِتـٰبٍ مَكنونٍ ﴿٧٨ لا يَمَسُّهُ إِلَّا المُطَهَّر‌ونَ ﴿٧٩ تَنزيلٌ مِن رَ‌بِّ العـٰلَمينَ ﴿٨٠﴾... سورةالواقعة

’’کہ بیشک یہ قرآن بہت بڑی عزت والا ہے۔جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے ۔ جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔ یہ رب العالمین کی طرف سےاترا ہوا ہے۔‘‘

یہ آیاتکریمہ  اس بات کی دلیل ہیں کہ کسی  مسلمان کے لیے  طہارت کے بغیر قرآن کریم  کو ہاتھ لگانا جائز نہین جیساکہ جمہور  اہل  علم کی رائے ہے۔ رسول  اللہ ﷺ نے اہل یمن کے نام ایک  خط لکھ کر عمروبن حزم ﷜ کے ہاتھ روانہ کیا جس  میں لکھا تھا:

(لَا يَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرًا»

(موارد الظمان الی  زوائد ابن حبان ح:793وسنن الدارقطنی ح:433)

 ’’انسان قرآن  مجید کو اس وقت  ہی ہاتھ لگائے جب  وہ پاک ہو۔‘‘

حکیم بن حزام ﷜سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

«لَا تَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا وَأَنْتَ طَاهِرٌ»(المستدرط  علی الصحیحین للحاکم:485/3)

’’قرآن مجید  کو صرف طہارت ہی کی حالت میں ہاتھ لگاؤ۔‘‘

سیدنا سعد ﷜ سےروایت ہے کہ انہوں نے اپنےبیٹے کو حکم دیا کہ قرآن کو پکڑنے کے لیے وضو کرو۔(السنن لکبری للبہیقی:88/1)

جب قرآن مجید کو ہاتھ لگانے کےلیے  وضو کرنا ضروری ہے تو ان کو اپنے طرز عمل  پر غور کرنا چاہیے  جو ان  اخبارات  وجرائد کو دستر خووان کے لیے استعمال کرتے ہین جن  میں قرآنی آیات  بھی چھپی ہوتی   ہین اور  پھر  وہ انہیں دیگر  نجاستوں اور غلاظتوں کے ساتھ  کوڑا کرکٹ  میں پھینک دیتے ہین ۔ بلا وشبہ  یہ  اللہ تعالیٰ کی کتاب مقدس  اور  اس کے پاک کلام  کی بے ادبی  وبے حرمتی ہے۔

 ہرمسلمان مرد عورت  پر  یہ واجب ہے  کہ وہ قرآن مجید اور ان  کتابوں کی حفاظت کریں  جو  قرآنی  آیات احادیث  نبویہ یا  ایسے کلام  پر مشتمل ہوں جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر  ہویا  جس میں  اس  اسماء  حسنیٰ ہوں  ان  سب کو پاک جگہ پر رکھنا چاہیے  اور ان اخبارات وجرائد وغیرہ کی ضرورت رہی ہو تو انہیں پاک زمیں  مین دفن کردیا جائےیا  جلادیا جائے اور اس بارے مین تساہل  سے قطعا  کام نہیں لینا چاہیے جب کہ  بہت سے لوگ غفلت  یا جہالت کی وجہ سے اس  ممنوع کا م ارتکاب کربیٹھے ہیں۔مسلمانوں پر واجب ہے  کہ  وہ کتاب اللہ  اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ وصفات علیا اور اس رسول ﷺ کی احادیث مبارکہ اکا ادب  واحترام بجالائیں اور ایسے کام  کا ارتکاب  نہ کریں جس سے  اللہ تعالیٰ ناراض ہو اور اللہ رب العالمین کے پاک کلام  کے مقام  ومر تبے  کے منافی ہو۔ اللہ تعالیٰ ہی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں  اور تمام مسلمانوں کو اپنی  کتاب مقدس  اور اپنے رسول ﷺ کی سنت   مطہرہ کی تعظیم اور ادب واحترام  بجالانے اور  ان کے  مطابق  عمل کرنے کی توفیق بخشے اور ہر  اس  قول وفعل سے محفوظ رکھے جو ان کے ادب واحترام کے تقاضوں کے منافی ہو بے شک وہی  قادر  وکار ساز ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص18

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ