سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(367) نابالغ لڑکے سے طلاق کی صورت

  • 11629
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-12
  • مشاہدات : 649

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حبیب رسول راولپنڈی سے لکھتے ہیں کہ نابالغ لڑکے سے طلاق لینے کی کیا صورت ہے۔ جبکہ اس کی بیوی بالغ ہے اور وہ طلاق کا مطالبہ بھی کرتی ہے۔نیز واضح رہے کہ لڑکا بھی نو یا دس سال کا ہے وہ اپنی بیوی کے پاس نہیں گیا ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

والدین کو چاہیے کہ نکاح کے وقت پیش بندی کے طور پر آئندہ ہونے والے حالات کا بغور جائزہ لے لیا کریں اس کے بعد نکاح کافریضہ سرانجام دیاجائے۔کیونکہ نکاح ایک ایسا سنجیدہ معاملہ ہے اور زندگی کا بندھن ہے جو ہر روز نہیں کیا جاتا یہ کوئی ریت کاگھر نہیں ہے۔جب چاہے بنا لے جب چاہے گرا دے صورت مسئولہ میں جب بیوی طلاق کا مطالبہ کرتی ہے تو  اس کی رہائی کی دو صورتیں ہیں:

1۔ لڑکا  طلاق دے دے بشرط یہ کہ وہ سن رشد کو پہنچ چکا ہو اگرچہ بالغ نہ ہو سوال میں بیان کردہ صورت کے پیش نظر لڑکا نو دس سال کا ہے لہذا وہ عاقل اور صاحب تمیز ہے۔ اور وہ خود طلاق دینے کا اہل ہے۔امام احمد بن حنبل  رحمۃ اللہ علیہ   کے نزدیک طلاق کے لئے بالغ ہونا شرط نہیں بلکہ صرف رشد وتمیز کا حاصل ہوناضروری ہے جسے اتنا علم ہو کہ بیوی کس غرض کے لئے ہوتی ہے۔ طلاق کے بعد بیوی جدا ہوجائےگی۔اور اس پر عدت بھی نہیں ہوگی اور طلاق کے بعد فورا آگے نکاح کرنے کی مجاز ہے کیونکہ طلاق قبل از  رخصتی کا حکم قرآن کریم نے یہی بتایا ہے۔(33/الاحزاب49)

2۔لڑکے کا سرپرست بھی      لڑکے کی طرف سے طلاق دے سکتا ہے جبکہ اسے معلوم ہوجائے کہ لڑکی میرے لڑکے کے گھر بسنے والی نہیں ہے اس صورت میں وہ اپنے لڑکے کے قائم مقام ہوکر طلاق دے سکتا ہے۔جیسا کہ امام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں۔:'' کہ خاوند کی طرف سے کوئی دوسرا قائم مقام ہو کر طلاق دے سکتا ہے۔ اور یہ صحیح موقف ہے امام احمد  رحمۃ اللہ علیہ   سے ایک روایت  یہ ہے کہ غلام اور لڑکے کی طلاق بھی صحیح ہے۔ اور ان کے قائم مقام ہو کر ان کے ولی بھی صحیح ہے۔ کیونکہ یہ ایک اصولی بات ہے کہ جو عقد کامالک ہوتا ہے۔ وہ نسخ کا بھی مالک ہے۔ غلام اور لڑکے کا نکاح چونکہ ولی کراتے ہیں اس لئے انھیں طلاق کا بھی اختیار ہے۔(اختیارات 254 کتاب الطلاق)

 شریعت کی دیگر تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ دیوانے خاوند کی طرف سے اس کا ولی طلاق دے سکتاہے۔ جیسا کہ حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے اس قسم کی  روایت ملتی ہے۔(دارقطنی4/65)

اس قسم کی ضرورت نابالغ لڑکے کی صورت میں سامنے آتی ہے۔لہذا اس کا حکم بھی وہی ہوگا ولی کی طلاق کے بعد عورت کو آگے نکاح کرنے کی اجازت ہے۔بشرط یہ کہ عدالت یا  پنچایت سے تصدیق کرالی جائے صرف فتویٰ کو بنیاد بناکر نکاح نہ کیا جائے۔ کیونکہ فتویٰ میں کسی صورت حال سے متعلق شرعی حکم بتایا جاتاہے۔ اس کی تنفیذ عدالت کا کام ہے۔آخر میں ہم دوبارہ کہنا ضروری خیال کرتے ہیں کہ نکاح ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ اسے کھیل اور مذاق کے  طور پر نہ لیاجائے ا س کے جملہ پہلووں پر غور کرکے سرانجام دینا چاہیے۔(واللہ اعلم)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:1 صفحہ:378

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ