سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(366) رخصتی سے قبل طلاق دینا اور حق مہر کا حکم

  • 11628
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-12
  • مشاہدات : 713

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قصورسے بشیر احمد لکھتے ہیں کہ ایک لڑکی کا نکاح بعوض دو ایکڑ زمین حق مہر ہوا وہ لڑکا دوایکڑدینے پر راضی نہیں ہے اگر رخصتی سے قبل طلاق ہوجائے  تو لڑکی حق مہر کا مطالبہ کرسکتی ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر بوقت نکاح حق مہر کو لڑکے نے بخوشی قبول کیا تھا تو اس کی ادائیگی ضروری ہے قرآن کریم کا یہی حکم ہے اس میں لیت ولعل کرنا شرعا درست نہیں ہے۔ حدیث میں ہے:'' کہ تمام شرطوں میں سب سے زیادہ حق دار  وہ  شرط ہے۔ جس کے زریعے تم نے اپنی منکوحہ کی شرم  گاہ کو اپنے لئے حلال کیا ہے۔''(صحیح بخاری :کتاب النکاح)

مصالحت کی کوشش کرناضروری ہے۔اگر طلاق دیناناگزیر ہوتولڑکی کو آدھاحق مہر ملے  گا۔جیسا کہ ارشاد باری   تعالیٰ ہے:''کہ اگر تم نے مساس سے پہلے  طلاق دی ہے۔ اور حق مہر کاتعین ہوچکاہے۔تونصف حق مہر کی ادائیگی تمہارے زمہ   ہے۔''(2/البقرہ :237)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:1 صفحہ:378

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ