سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(415) اشٹام پر طلاق لکھ کر دینا

  • 11624
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-12
  • مشاہدات : 416

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
رشید احمد جڑانوالہ سے پوچھتے ہیں کہ ایک شخص اپنی بیوی کوطلاق دینے کے ارادہ سے وثیقہ نویس کے پاس گیا اور اسے طلاق نامہ لکھنے کے متعلق کہا وثیقہ نویس نے اشٹام پر تین طلاق(طلاق ۔طلاق ۔طلاق) لکھ دیں شوہر ان پڑھ تھا اسے کوئی پتہ نہیں کہ طلاق کسی طرح لکھی جاتی ہے۔اس کامقصد صرف طلاق دیناتھا  کیا اس طرح طلاق ہوجاتی ہے نیز اسی طلاق کے بعد رجوع کا امکان ہے یا نہیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

رشید احمد جڑانوالہ سے پوچھتے ہیں کہ ایک شخص اپنی بیوی کوطلاق دینے کے ارادہ سے وثیقہ نویس کے پاس گیا اور اسے طلاق نامہ لکھنے کے متعلق کہا وثیقہ نویس نے اشٹام پر تین طلاق(طلاق ۔طلاق ۔طلاق) لکھ دیں شوہر ان پڑھ تھا اسے کوئی پتہ نہیں کہ طلاق کسی طرح لکھی جاتی ہے۔اس کامقصد صرف طلاق دیناتھا  کیا اس طرح طلاق ہوجاتی ہے نیز اسی طلاق کے بعد رجوع کا امکان ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بشر ط صحت سوال وصحت نکاح صورت مسئولہ میں شوہر خواندہ ہویا نا خواندہ نفس مسئلہ طلاق پر کوئی اثر نہیں    پڑتا بلاشبہ وہ اپنی بیوی کوطلاق دینے کی نیت سے وثیقہ نویس کے پاس گیا اور ا س نے اشٹام پر تین طلاقیں لکھ دیں اور اسے پڑھ کر سنایا اور شوہر نے اس تحریر کو بقائمی ہوش وحواس سنا اور اس پر اپنا نشان انگوٹھا یا دستخط ثبت کیے ایسے حالات میں طلاق کے واقع ہونے میں کوئی شک نہیں اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک ہی دفعہ تین طلاقیں کہہ دینے یالکھ دینے سے تینوں واقعہ ہوجاتی ہیں؟بلاشبہ حنفی مذہب میں اس طرح دی ہوئیں بیک وقت تین طلاقیں تینوں ہی نافظ ہوجاتی ہیں۔ اور ہمیشہ کے لئے طلاق دہندہ پر اس کی بیوی حرام ہوجاتی ہے۔پھر اسے اس کے لئے حلال کرنے کی خاطر بدنام زمانہ حلالہ کا طریقہ رائج کیاگیا جو نہ صرف بے شرمی اور بے حیائی ہے بلکہ مخالفین اسلام کو اس قسم کی حیا سوز حرکات کی آڑ میں اسلام پر حملہ آور ہونے کا موقع ملتا ہے۔ جبکہ احادیث کے مطابق حلالہ کرنے اور کروانے والے د ونوں ملعون ہیں۔

کتاب وسنت کی رو سے ایک مجلس میں دی ہوئی بیک وقت تین طلاقیں دینے سے ایک رجعی طلاق واقع ہوتی ہے۔بشرط یہ کہ طلاق دینے کا پہلا یا دوسرا موقع ہو اب دوران عدت خاوند کو بلا تجدید رجوع کا حق ہے اور عدت گزرنے کے بعد  بھی نئے نکاح سے رجوع  ہوسکے  گاایسے حالات میں ایک  رجعی طلاق ہونے کے دلائل حسب زیل ہیں:

1۔حضرت ابن عباس   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد نبوت حضرت ابو بکرصدیق   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے زمانہ خلافت اور حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے ابتدائی دو سالہ دور حکومت میں ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھی۔اس کے بعد لوگوں نے اس گنجائش سے غلط فائدہ اٹھانا شروع کردیا تو حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے تادیبی طور پر تین طلاق نافذ کرنے کا حکم صادر اور فرمادیا۔(صحیح مسلم :ج1 ص 433۔مسند امام احمد :ج1 ص314)

حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا یہ اقدام تعزیری تھا کیوں کہ آپ عمر کے آخری حصے میں اپنے اس فیصلے پر اظہار افسوس فرمایا کرتےتھے۔جیسا کہ حافظ ابن القیم  رحمۃ اللہ علیہ   نے محدث ابو بکر اسماعیلی کی تصنیف ''مسندعمر'' کے حوالہ سے لکھا ہے۔(اغاثہ اللفہان :ج1 ص 314)

2۔ حضرت رکانہ بن عبد یزید   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اپنی بیوی کوطلاق دے دی اس کے بعد انہیں اپنی بیوی کے فراق میں انتہائی افسوس ہوا۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب معاملہ پہنچا تو آپ نے اسے بلایا اور دریافت فرمایا:'' کہ تو نے طلاق کیسے دی تھی۔ عرض کیا کہ ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دی تھیں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' یہ تو ایک رجعی  طلاق ہے۔اگرچاہے تو رجوع کرلو۔''چنانچہ اس نے رجوع کرکے دوبارہ اپنا گھر آباد کرلیا۔(مسند امام احمد :ج 1 ص 265)

 حافظ ابن حجر  رحمۃ اللہ علیہ   لکھتے ہیں:'' کہ یہ حدیث مسئلہ طلاق ثلاثہ کے متعلق ایک فیصلہ کن نص قطعی کی حیثیت رکھتی ہے جس کی اور کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی۔''(فتح الباری     :ج9 ص 362 کتاب الطلاق)

ا ن احادیث کی روشنی میں ایک باغیرت کتاب وسنت پر ایمان اور ان پر عمل پیرا ہونے والے کے لئے گنجائش ہے کہ اگر اس نے ایک ہی مجلس میں بیک وقت تین طلاقیں دے دی ہیں توایام ختم ہوچکے ہیں تو مندرجہ زیل چار شرائط کے ساتھ نکاح جدید سے رجوع ہوسکتا ہے۔

1۔نئے حق مہر کی تعین

2۔دو گواہ موجود ہوں

3۔سرپرست کی اجازت ہو

4۔عورت بھی اس نکاح پر راضی ہو

قرآن وحدیث کا یہی فیصلہ ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں رائج الوقت عائلی قوانین اور دیگراسلامی ممالک میں بھی یہی  فتویٰ دیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ عدت عام حالالت میں تین حیض ہیں۔حمل کی صورت میں وضع حمل اس کے علاوہ حیض نہ آنے کی صورت میں قمری تین ماہ ہیں۔اگرنکاح کے بعد ر خصتی عمل میں نہیں آئی تو کوئی عدت نہیں ہے طلاق کے بعد بلاانتظار اسے نکاح کرنے کی اجازت ہے۔(واللہ اعلم بالصواب)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج1ص373

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ