سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(300) کل جائیداد کو مسجد کے لیے وقف کرنا

  • 11550
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-26
  • مشاہدات : 1406

سوال

(300) کل جائیداد کو مسجد کے لیے وقف کرنا

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قصور سے محمد یحیٰ لکھتے ہیں کہ ایک شخص فوت ہونے سے قبل بیماری کی حالت میں وصیت کرتا ہے۔کہ میری کل جائیداد  مسجد کو وقف کردی جائے۔ جبکہ ا س کی حقیقی بہن حقیقی چچا حقیقی پھوپھی اورچچا زادبہن بھائی موجود ہیں قرآن وحدیث کی رو سے کیا یہ وصیت جائز ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واضح رہے کہ دین اسلام میں وصیت کے  متعلق ضابطہ حسب زیل ہے:

1۔وصیت کرنے والا صحت وتندرستی میں وصیت کرے۔مرض الموت میں کی ہوئی وصیت کاکوئی اعتبار نہیں ہوتا۔

2۔شرعی وارث کے حق میں   وصیت نہیں کی جاسکتی اس کا مطلب یہ ہے کہ زریعے مقررہ حصوں میں کمی بیشی یا کسی وارث سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

3۔زیادہ سے زیادہ کل جائیداد سے ایک تہائی (3/1) کی وصیت کرن کی اجازت ہے۔

صورت مسئولہ میں اگروصیت مرض الموت میں کی گئی ہے تو سرے سے کالعدم ہے اسے نافذ نہیں کیا جاسکتا اگروصیت مرض الموت کے وقت نہ تھی۔بلکہ عام  بیماری کی حالت میں کی گئی تواس صورت میں بھی صر ف ایک  تہائی (3/1)کی وصیت قابل اجراء ہوگی تمام جائیداد کی وصیت کسی صورت میں جائز نہیں ہے قرآن کریم نے اس قسم کی نارواوصیت کو درست کرنے پر زوردیا ہے۔ارشاد باری  تعالیٰ ہے:اگر کسی کو وصیت  کرنے والے سے(کسی وارث کی) طرف داری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ (وصیت کو بد ل کر) وارثوں میں اصلاح کراوے تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے۔''(2/البقرہ :182)

اس بنا پر اگروصیت مرض الموت سے پہلے ہوئی تو جسے اجراء وصیت کا ذمہ دار ٹھرایا گیا ہے اسے چاہیے کہ  رضا کارانہ طور پر مسجد کے لئے ایک تہائی (3/1) نکال کر باقی جائیداد متوفی کے شرعی ورثاء کےحوالے کرکے خود سبک دوش ہوجائے تاکہ ایسا کرنے سے متوفی کا بوجھ بھی ہلکا ہوجائے بصورت دیگر متوفی اور وصیت کاذمہ  دار  ورثاء کی حق تلفی کے جواب د ہ ہوں گے۔حدیث میں ہے :'' کہ اگر کوئی شرعی وارث کو اس کے  حق وراثت سے محروم کردیتا ہے۔جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے مقرر فرمایا ہے اللہ تعالیٰ  جنت میں اس کی وراثت کو ختم کردیں گے۔''(شعب الایمان :14/115)

اب وصیت کالعدم ہونے کی صورت میں نصف جائیداد کی حق دار ا س کی حقیقی ہمشیرہ اور باقی نصف اسکے حقیقی چچا کو مل جائے گی۔اور وصیت کے اجراء کی صور ت میں جائیداد کے تین حصے کرلیے جائیں ایک حصہ مسجد کو ایک حقیقی بہن کو اور ایک حقیقی چچا کو مل جائےگا۔دیگر ورثاء یعنی پھوپھی اور چچا زاد بہن بھائی شرعاً محروم ہیں۔کیونکہ چچا کی موجودگی میں چچا زاد محروم ہوتے ہیں۔(واللہ اعلم بالصواب)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:1 صفحہ:324

تبصرے