سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(98) جادو اور شرکیہ کفریہ تعویذ بھی اللہ کے حکم سے نقصان پہنچا سکتے ہیں

  • 11524
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-30
  • مشاہدات : 892

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا شرکی تعویذ اور وہ جس میں شیطان و جن وغیرہ سے مدد مانگنے جیسے کفریہ کلمات لکھے گئے ہوں نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا شرکی تعویذ اور وہ جس میں شیطان و جن وغیرہ سے مدد مانگنے جیسے کفریہ کلمات لکھے گئے ہوں نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

پہلے تو مسلمان پر فرض ہے کہ وہ یہ عقیدہ رکھے کہ نفع و نقصان اللہ تعالٰی کے ہاتھ میں ہے اور اس کے علاوہ امیر ہو،فقیر ہو اولیاء اللہ ہوں یا اعداء اللہ کسی کے اختیار میں نفع یا نقصان نہیں۔اس کائنات میں صرف اللہ تعالٰی کا تصرف چلتا ہے اور یہ جاننا ضروری ہے کہ اگر ساری امت تجھے نقصان پہچانے کے لیے اکٹھی ہو جائے تو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی مگر وہی جو اللہ تعالٰی نے

لیے لکھا ہے۔قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو چکے ہیں۔نبیؐ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہی وصیت فرمائی تھی۔

اور یہ بھی جاننا چاہیے ک اللہ تعالٰی نے بعض چیزوں میں ضرر پیدا فرمایا ہے اگرچہ اس کی رضا کے خلاف ہے اور اس کے بر عکس بھی۔ اللہ عزوجل نے جادو اور شرکی تعویزوں میں تاثیر رکھی ہے لیکن وہ اللہ تعالٰی کے اذن کے بغیر اثر نہیں کرتے۔

جیسے کہ اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب میں صراحت فرمائی ہے اور آپ کے نبیؐ نے بھی اپنی سنتوں میں بیان فرمایا ہے جیسے کہ اللہ تعالٰی نے کھانے میں بھوک اثر مٹانا اور پانی میں پیاس کا اثر ختم کرنا وضع فرمایا ہے اور نکاح میں اولاد کا پیدا ہونا وضع فرمایا ہے تو ان سب کا خالق اللہ عزوجل ہے لیکن اس کا ارادہ الگ ہے اور رضا الگ،اللہ تعالٰی بعض چیزوں کا ارادہ فرماتے ہیں لیکن پسند نہیں فرماتے اور بعض چیزیں پسند تو ہوتی ہیں لیکن اس کا ارادہ نہیں فرماتے تو وہ وقوع پذیر نہیں ہوتے جیسے کافر کا ایمان لانا۔اللہ عزوجل کے ارادہءکونی اور ارادہ دینی میں فرق ہے اور تفصیل کے لیے دیکھیں شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کی کتاب "الفرقان"۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص205

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ