سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(345) چار ماہ بعد ساقط ہونے والے بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی

  • 1146
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-07
  • مشاہدات : 1015

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عورت نے چھٹے مہینے اپنے حمل کو گرا دیا۔ یہ عورت بہت محنت اور مشقت والے کام کرتی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ وہ رمضان کے روزے بھی رکھتی تھی، اس لیے وہ محسوس کرتی ہے کہ یہ حمل شایدان محنت اور مشقت والے کاموں کی وجہ سے ساقط ہوا ہے، بہرحال اس (بچے کو) دفن توکیا گیا لیکن اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی سوال یہ ہے کہ اس کی نماز جنازہ کے ترک کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ حمل کے ساقط ہونے کی وجہ سے عورت اپنے دل میں پیدا ہونے والے ان شکوک وشبہات کے ازالے کے لیے کیا کرے؟ راہنمائی فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ کو اجر و ثواب سے نوازے۔؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عورت نے چھٹے مہینے اپنے حمل کو گرا دیا۔ یہ عورت بہت محنت اور مشقت والے کام کرتی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ وہ رمضان کے روزے بھی رکھتی تھی، اس لیے وہ محسوس کرتی ہے کہ یہ حمل شایدان محنت اور مشقت والے کاموں کی وجہ سے ساقط ہوا ہے، بہرحال اس (بچے کو) دفن توکیا گیا لیکن اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی سوال یہ ہے کہ اس کی نماز جنازہ کے ترک کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ حمل کے ساقط ہونے کی وجہ سے عورت اپنے دل میں پیدا ہونے والے ان شکوک وشبہات کے ازالے کے لیے کیا کرے؟ راہنمائی فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ کو اجر و ثواب سے نوازے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

گرنے والا حمل اگر چار ماہ کا ہو تو واجب ہے کہ اسے غسل دیا جائے، کفن پہنایا جائے اور اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے کیونکہ وہ جب حمل چار ماہ کا ہو جاتا ہے تو اس میں روح پھونک دی جاتی ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  سے مروی حدیث میں ہے کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے بیان فرمایا اور بلا شبہ آپ کی ذات گرامی صادق ومصدوق ہے:

«إِنَّ أَحَدَکُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِی بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا نطفة ثُمَّ يَکُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ يَکُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ يَبْعَثُ اليهُ الملک ، َ فيُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ» صحيح البخاری، بدء الخلق، باب ذکر الملائکة، ح: ۳۲۰۸ وصحيح مسلم، القدر، باب کيفية خلق الآدمی… ح: ۲۶۴۳۔

’’تم میں سے ہر ایک کے تخلیقی اجزاء اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفے کی صورت میں جمع رہتے ہیں، پھر وہ چالیس دن تک لوتھڑے کی صورت میں رہتا ہے اور پھر اسی طرح چالیس دن تک بوٹی کی صورت میں ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھیجتا ہے، جوآکر اس میں روح پھونکتا ہے۔‘‘

یہ کل ایک سو بیس دن یعنی چار ماہ بنتے ہیں، لہٰذا جب حمل اس مدت کے بعد گرے تو اسے غسل دیا

جائے گا، کفن پہنایا جائے گا، اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور روز قیامت اسے بھی لوگوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔

اگر حمل چار ماہ کی مدت سے پہلے ساقط ہو جائے تو پھر اسے نہ غسل دیا جائے گا، نہ کفن پہنایا جائے گا، نہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اسے کسی بھی جگہ دفن کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، انسان نہیں ہے۔

سوال میں مذکور حمل چھ ماہ کا تھا، لہٰذا اس کے لیے غسل، کفن اور جنازہ واجب تھا مگر سوال میں مذکور ہے کہ اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی، لہٰذا اگر اس کی قبر معلوم ہو تو قبر ہی پر نماز جنازہ پڑھ لی جائے، ورنہ اس کی نماز جنازہ غائبانہ پڑھ لی جائے اور اس کے لیے صرف ایک آدمی کا نماز جنازہ پڑھنا بھی کافی ہوگا۔

اس کی ماں کے دل میں جو یہ شکوک وشبہات پیدا ہو رہے ہیں کہ حمل اس کی وجہ سے ساقط ہوا ہے، تو ان کا کوئی اعتبار نہیں، اس قسم کے شکوک وشبہات کو دل میں جگہ نہیں دینی چاہیے کیونکہ بہت سے جنین اپنی ماؤں کے پیٹوں میں مر جاتے ہیں، اس کی وجہ سے ماں پر کچھ عائد نہیں ہوتا، لہٰذا اسے ان شکوک اور وساوس کو ترک کر دینا چاہیے جنہوں نے اس کی زندگی کو مکدر کر رکھا ہے۔

وباللہ التوفیق

 

فتاویٰ ارکان اسلام

نمازکےمسائل:صفحہ334

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ