سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(344) جسم کے کچھ اعضاء کے ملنے پر جنازے کا حکم

  • 1145
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-07
  • مشاہدات : 865

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کبھی کبھی گاڑیوں کے حادثات یا آگ سے جلنے کے واقعات یا اونچی جگہ سے گر کر مر جانے یہ اور ان جیسی صورتوں میں انسان کے اجزا تلف یا گم ہو جاتے ہیں یا بعض اوقات صرف ہاتھ یا سر کے کچھ ٹکڑے مل جاتے ہیں، تو کیا ان اجزا پر بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور کیا انہیں بھی غسل دیا جائے گا؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کبھی کبھی گاڑیوں کے حادثات یا آگ سے جلنے کے واقعات یا اونچی جگہ سے گر کر مر جانے یہ اور ان جیسی صورتوں میں انسان کے اجزا تلف یا گم ہو جاتے ہیں یا بعض اوقات صرف ہاتھ یا سر کے کچھ ٹکڑے مل جاتے ہیں، تو کیا ان اجزا پر بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور کیا انہیں بھی غسل دیا جائے گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

جب ہاتھ یا پاؤں کے ٹکڑے ملیں اور جس کے جسم کے یہ ٹکڑے ہوں، اس کی پہلی نماز جنازہ پڑھی جا چکی ہو تو پھر ان ٹکڑوں کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی، مثلاً: اگر ہم نے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھی اور اسے دفن کر دیا لیکن پاؤں کے بغیر اور بعد میں ہمیں اس کا پاؤں بھی مل گیا تو اس پاؤں کو دفن کر دیا جائے گا اور اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی کیونکہ اس میت کا جنازہ تو پہلے پڑھا جا چکا ہے۔

اگر میت کا سارا جسم نہ ملے الایہ کہ اس کے اعضا میں سے صرف اس کا سر یا پاؤں یا ہاتھ مل جائے

اور باقی جسم نہ ملے تو اس موجود عضو یا اعضا ہی کو غسل دے کر کفن پہنا دیا جائے گا اور پھر نماز جنازہ پڑھ کر اسے دفن کر دیا جائے گا۔

وباللہ التوفیق

 

فتاویٰ ارکان اسلام

نمازکےمسائل:صفحہ334

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ