سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(225) کرایہ دار سے پگڑی کی رقم وصول کرنا

  • 11441
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-29
  • مشاہدات : 923

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اکرام اللہ بزریعہ ای میل سوال کرتے ہیں کہ ایک شخص کسی سے دکان کرایہ پر لیتا ہے۔ماہانہ کرایہ کے علاوہ  مالک دکان کرایہ  دار سے پگڑی  کی رقم وصول کرتاہے۔اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟نیز بعض اوقات کرایہ دار اس دوکان کوکچھ وقت استعمال کرکے کسی دوسرے شخص کو کرایہ پر دے دیتا ہے اور اس شخص سے منہ مانگی پگڑی وصول کرتا ہے۔جبکہ مالک دکان کو اس سے کچھ نہیں ملتا کیاشرعاً ایسا کرنا درست ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اکرام اللہ بزریعہ ای میل سوال کرتے ہیں کہ ایک شخص کسی سے دکان کرایہ پر لیتا ہے۔ماہانہ کرایہ کے علاوہ  مالک دکان کرایہ  دار سے پگڑی  کی رقم وصول کرتاہے۔اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟نیز بعض اوقات کرایہ دار اس دوکان کوکچھ وقت استعمال کرکے کسی دوسرے شخص کو کرایہ پر دے دیتا ہے اور اس شخص سے منہ مانگی پگڑی وصول کرتا ہے۔جبکہ مالک دکان کو اس سے کچھ نہیں ملتا کیاشرعاً ایسا کرنا درست ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مالی کے معاملات کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے''کہ اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کے مال باطل زرائع سے مت حاصل کر وہاں اگر تجارت باہمی رضا مندی سے ہوتو ٹھیک ہے۔(4/النساء:29)

اس ارشاد باری تعالیٰ کے پیش نظر مروجہ پگڑی کا کاروبار ناجائز اور حرام ہے۔اگر مالک دکان پیشگی وصول کی ہوئی رقم ما ہ بماہ کرایہ میں وضع کرتا رہے تو جائز ہے۔کیوں کہ اس میں کرایہ دار کی طرف سے مالک دکان کی خیر خواہی ہے کہ وہ یکشمت لی ہوئی رقم کو اپنے مصرف میں لئے آتا ہے۔اگروصول کی ہوئی  رقم کرایہ کا حصہ نہیں بنتی تو مالک کا اس طرح پیشگی رقم  وصول کرنا ناجائز اورحرام ہے۔ کیوں کہ مالک اس رقم کے معاوضہ میں کرایہ دار کو کچھ نہیں دیتا۔اس طرح کرایہ دار کا اس دکان کو آگے پگڑی پر دینا بھی جائز نہیں۔کیوں کہ یہ مالک کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں تصرف کرنا ہے اگر مالک اراضی بھی ہوجائے تو بھی ناجائز ہے کیوں کہ یہ مال بلامعاوضہ حاصل کیا گیا ہے اگر تجارت کا کوئی اڈا یا مکان کا محل وقوع کوئی قدر وقیمت رکھتے ہیں تو وہ اصل مالک کاحق ہے کرایہ دارصرف اس کو اپنے استعمال میں لانے کا روادار ہے اسے آگے فروخت کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔ آخر یہ کرایہ دار دوسرے کرایہ کو مذید رقم کے معاوضے میں کیا چیز دیتا ہے۔ایسے کاروبار کوتجارت تو نہیں کہاجاسکتا ہے۔جس میں معاوضہ ضروری تو ہوتاہے پھر حدیث میں ہے''کہ نہ خود نقصان اٹھائو اور نہ کسی دوسرے کو نقصان پہنچاؤ۔''پگڑی کاکاروبار اس حدیث کے بھی خلاف ہے۔کیوں کہ ایساکرنے سے  مالک دکان کو نقصان ہوتاہے۔اگر کرایہ دار کو دکان کی ضرورت نہیں تو اسے چاہیے کہ اسے خالی کرکے مالک کے حوالے کردے۔اگر مالک نے پیشگی کرایہ وصول کیاہے تو اسے چاہیے کہ اجارہ کی باقی ماندہ مدت کے مقابل میں یکمشت رقم کا جتنا حصہ آرہاہے۔اسے واپس کردے۔نیز اگر دکان متعین مد ت کےلئے کرایہ پر بھی دی  تو مالک دکان کے لئے یہ بھی جائز نہیں کہ کسی شرعی عذر کے بغیر اس معاملہ کو ختم کرے۔اور نہ ہی کرایہ دار پر دکان خالی کرنے کا دباؤ ڈالے۔اگر مالک ایساکرتا ہے تو کرایہ دار کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے اس حق کرایہ داری سے دستبرداری کے عوض مال کا  مطالبہ کرے یہ عوض اس کے علاوہ پر ہوگا کس کا کرایہ دار اپنی یکمشت دی ہوئی رقم میں سے اجارہ کی باقی مدت کے حساب سے حق دار ہوگا۔ہمارے ہاں بعض شہروں میں پگڑی کی ایک بدترین صورت بھی رائج ہے۔وہ اس مالک دکان 'دکان کی پوری رقم وصول کرلیتاہے۔لیکن خریدار کو مالکانہ حقوق نہیں دیتا بلکہ ا س سے ماہ بماہ طے شدہ کرایہ وصول کرتا ہے۔کرایہ دار اس دکان میں کسی دوسرے شخص کو بٹھا دیتا ہے اور اس سے کچھ رقم بھی وصول کرتا ہے مالک دکان نئے کرایہ دار سے پگڑی کی  رقم کابیس یا پچیس فیصد وصول کرتا ہے تاکہ اس کے نام پر کرایہ کی رسید جاری کرے۔شرعی طور پر مالک اور اپنے کرایہ دار کا یہ کاروباار ناجائز ہے۔ ایک مسلمان کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:1 صفحہ:260

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ