سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(224) گروی شدہ زمین سے فائدہ لینے کی شرعی حیثیت

  • 11440
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-29
  • مشاہدات : 482

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میاں چنوں سے محمد انور دریافت کرتے ہیں کہ گروی شدہ زمین سے فائدہ لینے کی شرعی حیثیت کیا ہے کیا اسے سود قرار دیاجاسکتاہے؟قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میاں چنوں سے محمد انور دریافت کرتے ہیں کہ گروی شدہ زمین سے فائدہ لینے کی شرعی حیثیت کیا ہے کیا اسے سود قرار دیاجاسکتاہے؟قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرض دینے کے بعد اس کی واپسی کو یقینی بنانے کے لئے مقروض کی کوئی چیز اپنے پاس  رکھنا گروی کہلاتا ہے اس سے فائدہ لینے کے متعلق علماء حضرات کی مختلف آراء ہیں۔جن کی تفصیل حسب زیل ہے:

1۔مطلق طور پر گروی چیز سے فائدہ لیا جاسکتا ہے۔اور یہ جائز اور مباح ہے۔

2۔گروی چیز کی بنیاد قرض ہےاور جس نفع کی بنیاد قرض ہو وہ سود ہوتا  ہے۔لہذا اگر گروی چیز سے فائدہ لینا سود کی ایک قسم ہے اور یہ ناجائز اور حرام ہے۔

3۔گروی چیز کی حفاظت ونگہداشت پر محنت واخراجات برداشت کرناپڑتے ہیں۔لہذا بقدر محنت واخراجات فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اس سے زائد  فائدہ  اٹھانا جائز نہیں۔

4۔حقیقت کے اعتبار سے گروی چیز چونکہ اصل مالک کی ہے۔اس لئے اس کی حفاظت و نگہداشت فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے ہمارے نذدیک یہ آخری موقف کچھ زیادہ قرین قیاس ہے۔البتہ اس میں کچھ تفصیل ہے کہ اگر گروی شدہ چیز دودھ دینے والاجانور یاسواری کے قابل کوئی جانور ہے تو اس کی  حفاظت ونگہداشت  پر اٹھنے والے اخراجات کے بقدر اس سے فائدہ لیا جاسکتا ہے۔اس صورت میں اصل مالک کے زمہ اس کی حفاظت ونگہداشت کا بوجھ ڈالنا فریقین کے لئے باعث تکلیف ہے حدیث میں ہے:

''سواری کاجانور اگر گروی ہے تو اس پر اٹھنے والے اخراجات کی وجہ سے سواری کی جاسکتی ہے اوراگردودھ دینے والا جانور ہے تو اخراجات کی وجہ سے اس کا وددھ پیا جاسکتاہے اور جوسواری کرتا ہے یادودھ پیتاہے اس کے زمہ اس جانور کے اخراجات ہیں۔''(صحیح بخاری کتاب الرھن)

یہ فائدہ بھی اپنے استعمال کی حد تک ہے۔اگر گروی شدہ  چیز ایسی ہے کہ اس کی حفاظت پر اخراجات وغیر ہ نہیں اٹھانا پڑتے ہیں۔مثلاً زیورات یاقیمتی دستاویزات وغیرہ تو ایسی چیز سے فائدہ لینا درست نہیں ہے۔ کیوں کہ ایساکرنا گویااپنے قرض سے فائدہ اٹھاناہے۔جس سے سود کاواضح شائبہ ہےاگرگروی شدہ چیز زمین کی صورت میں ہے۔ جیسا کہ صورت مسئولہ میں ہے تو چونکہ ایک حقیقی مالک  قرض لینے والا ہے۔اس لئے اس کا حق ہے کہ وہ خود کاشت کرکے اس سے نفع حاصل کرے۔البتہ قرض کی واپسی یقینی بنانے کے لئے زمین سے متعلق کاغذات رجسٹری اور فرد ملکیت وغیرہ قرض دینے والا اپنے پا س رکھے اگر کسی وجہ سے ایسا ناممکن ہو تو جس کے پاس زمین گروی رکھی گئی ہے۔وہ خود اسے کاشت کرے اور اس پر اٹھنے والے اخراجات کو منہا کرکے نفع وغیرہ کو دو حصوں میں تقسیم کرلیا جائے۔نصف یعنی ایک حصہ اپنی محنت کے عوض خود رکھ لے اور باقی دوسرا حصہ اس کے مالک کی زمین کی وجہ سے اسے دے دیا یا اس کے قرض سے اتنی رقم منہا کردے۔اس طرح قرض کی رقم جب پوری ہوجائےگی۔تو زمین اصل مالک کو واپس کردی جائے گی۔اس سلسلے میں رائج الوقت مندرجہ زیل صورتیں بالکل ناجائز اورحرام ہیں۔

1۔جس کے پاس زمین گروی رکھی ہے۔وہ اسے خود کاشت کرے۔اور اس کی  پیداوارخود ہی استعمال کرتار ہے اصل مالک کو بالکل نظر اندازکردے۔

2۔اگر وقت مقررہ پر قرض وصول نہ ہو تو گروی شدہ زمین بحق قرض ضبط کرلی جائے۔یہ دونوں صورتیں  صریح ظلم اور زیادتی کاباعث ہیں ۔لہذا ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔(واللہ اعلم)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:1 صفحہ:258

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ