سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(342) نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے رشتہ داروں اور دوستوں کو اطلاق دینا جائز ہے

  • 1143
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-07
  • مشاہدات : 1029

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

رشتہ داروں اور دوستوں کی کسی شخص کی وفات کی خبر دینا تاکہ وہ اس کی نماز جنازہ میں شرکت کر سکیں، کیا یہ ممنوع ہے یا مباح؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

رشتہ داروں اور دوستوں کی کسی شخص کی وفات کی خبر دینا تاکہ وہ اس کی نماز جنازہ میں شرکت کر سکیں، کیا یہ ممنوع ہے یا مباح؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

یہ خبر دینا جائز ہے، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے نجاشی کی وفات کی اس دن خبر دی تھی جس دن وہ فوت ہوئے تھے۔ صحیح البخاری، الجنائز، باب الرجل ینعی الی اہل المیت، حدیث: ۱۲۴۵۔

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس عورت کے بارے میں، جسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  نے دفن کر دیا تھا اور آپ کو اس کے بارے میں خبر نہیں دی، فرمایا تھا:

«هلا کُنْتُمْ آذَنْتُمُوْنِیْ…» صحيح مسلم، الجنائز، باب الصلاة علی القبر، ح:۹۵۶۔

’’تم لوگوں نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی؟‘‘

اس بنیادپر لوگوں کوکسی شخص کی موت کی خبر دینے میں کوئی حرج نہیں تاکہ اس کی نماز جنازہ میں زیادہ لوگ شریک ہو سکیں کیونکہ ایسا سنت سے ثابت ہے۔ اسی طرح اہل خانہ اور رشتہ داروں کو اطلاع دینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

وباللہ التوفیق

 

فتاویٰ ارکان اسلام

نمازکےمسائل:صفحہ333

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ