سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(230) مستورات کا مسجد میں اعتکاف کرنا

  • 11399
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-28
  • مشاہدات : 547

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جیکب آبا د  سے عبد الغفا ر  سوال کر تے ہیں کہ مستو رات  کا مسجد میں اعتکا ف  کر نا شر عاً  کیسا ہے ؟ محرم  کے بغیر  عورت  اکیلی  سفر  نہیں  کر سکتی  تو مسجد  میں دس  یو م  تک  اعتکا ف  اکیلی   کیسے کر سکتی ہے ؟ اگر  کر سکتی ہے  تو اس کے لیے کیا لو ازم ہیں نیز  کیا نا با لغ  بچی  اعتکا ف  کر سکتی ہے ؟ کتا ب و سنت  کی روشنی   میں جو اب دیں ؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جیکب آبا د  سے عبد الغفا ر  سوال کر تے ہیں کہ مستو رات  کا مسجد میں اعتکا ف  کر نا شر عاً  کیسا ہے ؟ محرم  کے بغیر  عورت  اکیلی  سفر  نہیں  کر سکتی  تو مسجد  میں دس  یو م  تک  اعتکا ف  اکیلی   کیسے کر سکتی ہے ؟ اگر  کر سکتی ہے  تو اس کے لیے کیا لو ازم ہیں نیز  کیا نا با لغ  بچی  اعتکا ف  کر سکتی ہے ؟ کتا ب و سنت  کی روشنی   میں جو اب دیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واضح رہے کہ  دنیا وی علا ئق  سے الگ تھلگ  ہو کر  تقرب  الہیٰ کی نیت  سے کچھ وقت مسجد  میں قیا م کر نے  کو شرعاً  اعتکا ف  کہا جا تا  ہے اس بنا  پر  اگر اگر تقرب  الہیٰ  کی نیت  تو ہے  لیکن  مسجد  میں قیا م  نہیں ہے  تو ان دونو ں  صورتو ں  کو شر عی  اعتکا ف  نہیں کہا جا ئے گا  مسجد  کی شر ط  اس لیے  ہے کہ  ارشا د با ر ی تعا لیٰ  ہے اور  جب تم  مسا جد میں اعتکا ف  بیٹھے  ہو تو  ان (بیو یو ں ) سے مبا شرت نہ کر و ۔(2/البقرۃ :187)

آیت کر یمہ میں مسا جد کا بطور خا ص ذکر اس با ت کا تقا ضا کر تا ہے کہ اعتکا ف کے لیے مسجد کا ہو نا  ضروری نہیں  ہے اس بنا پر عرتو ں کا گھر و ں میں اعتکا ف کر نا صحیح نہیں ہے بلکہ انہیں بھی اعتکا ف مسجد میں بیٹھنا چا ہیے  البتہ   انہیں مند رجہ ذیل شرا ئط  کو ملحو ظ  خا طر رکھنا ہو گا ۔عورت کے لیے  مردوں سے با یں  طور  پر الگ انتظا م  ہو کہ مر دوں  کے سا تھ  اختلا ط  کا قطعاً کو ئی  امکا ن  با قی  نہ رہے  کیو نکہ  اختلا ط  کو اللہ اور اس کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے  پسند نہیں کیا  ہے ۔خا و ند سے اعتکا ف بیٹھنے کی اجا ز ت  حا صل کی جا ئے  بصورت  دیگر  اعتکا ف  صحیح نہیں ہو گا ، بحا لت  اعتکا ف  مخصوص  ایا م  کے آ جا نے  کا بھی  اندیشہ  نہ ہو ۔کسی قسم کے فتنہ  و فسا د کا  خطرہ بھی نہ ہو خو رد نو ش  اور دیگر  لو ازم  کا با قاعدہ  انتظا م  ہو تا کہ با ہر  جا نے کی ضرورت  نہ پڑے  اگر یہ شرائط  پو ری نہ ہو ں تو عورتو ں کے لیے  اعتکا ف سے اجتنا ب زیا دہ بہتر ہے  ایسے حا لا ت میں گھر کے کسی گو شہ میں  شو ق  عبا دت پو را  کر لینا  چا ہیے  لیکن  اسے  شرعی  اعتکا ف  نہیں  کہا جا ئے گا  اور نہ ہی اعتکا ف  کی پا بند یا ں  اس پر عا ئد   ہو ں گی  بعض  حضرات  کی طرف  سے عورتو ں  کے لیے اعتکا ف کو غیر  مشروع  کہا جا رہا ہے   لیکن اس کی کو ئی دلیل پیش نہیں کی جا تی  چو نکہ ازواج  مطہرا ت کا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات  کے بعد  اعتکا ف  کر نا  صحیح احا دیث  سے چا بت  ہے ۔(صحیح بخا ری )

اس لیے شرائط  با لا  کو ملحو ظ  رکھتے ہو ئے عورت مسجد میں اعتکا ف کر سکتی ہے  صورت مسئولہ میں  جو حدیث  اس کے عد م  جوا ز پر پیش  کی گئی  ہے وہ سفر  سے تعلق  رکھتی ہے اس کا اعتکا ف  سے کو ئی  کٓلگا ؤ نہیں ہے ۔نا با لغ بچی  شر عی  احکا م  کی پا بند  نہیں ہے  اس لیے  اعتکا ف  جیسی  پا کیزہ  اور مقدس  عبا دت کو با ز یچہ  اطفا ل  نہیں  بنانا  چا ہیے ۔(واللہ اعلم بالصواب)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج1ص222

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ABC