سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(54) بوسیدہ مصاحف کاکیا کیا جائے ؟

  • 11381
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-28
  • مشاہدات : 754

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مصحف جو جل جائے کیا اسے دفن کیا جائے یا کیا کیا جائے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد

اس مسئلہ کی درج ذیل چار صورتیں ہیں ۔

پہلی صورت :قبرستان میں دفن کردیے جائیں ۔

دوسری صورت :پانی میں چھو ڑ دیا جائے ۔

تیسر ی صورت :زمین میں کہیں دفن کر دیے جائے ۔

چوتھی صورت :۔ جلا دیا جائے ۔

صحابہ کرام ﷢ سے چوتھی صورت ثابت ہے ،پہلی تین صورتیں نہیں ۔ ایک تو اس وجہ سے کہ یہ ثابت نہیں دوسری اس وجہ سے کہ اس میں ھنک (بے حرمتی )ہے جیسے ہم اس کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔

چوتھی صورت کا ثبوت یہ ہے کہ صحیح بخاری (2؍746)میں عثمان ﷜سے روایت ہے ،’’جب انہوں نے مصحف سے متعدد مصاحف لکھ لیے تو عثمان ﷜ نے وہ مصحف واپس حفصہ رضی اللہ عنھا کو بھیج دیا اور لکھے گے مصاحف مختلف علاقوں میں بھیح دیے ٔ۔ اور اس کے علاوہ قرآ ن جس صحیفے یا مصحف میں لکھا تھا اسکے جلا نے کا حکم دے دیا ۔

حافظ فتح الباری (9؍17)میں کہتے ہیں :’’مصحف بن سعد سے روایت ہے کہ جب عثمان ﷜نے مصاجف جلائے لوگ بکثرت موجود تھے انہں نے یہ اچھا سمجھا یا کہا کہ ان میں سے کسی نے انکار نہیں کیا ۔

ابننے کہا :’’اس حدیث سے ان کتابوں کے جلانے کا جواز ثابت ہوتا ہے ،اسی میں اس کا اکرام او رپیر وں تلے روندے جانے سے حفاظت ہے ‘‘،اور عبدالرزاق نے طاوس کی سند سے نکالا ہے کہ وہ خطوط کو جس میں بسم اللہ ہوتی تھی جب جمع ہوتے جلا دیتے تھے ۔اسی طرح عروہ کا فعل بھی تھا ۔ اور یہی حکم اس زمانے میں ہوتا تھا ۔اس مسئلے کی تفصیل کے لیے رجوع کریں البدایہ والنھایہ (4؍227) الطبری ،فتاویٰ برکاتیہ ص (313)فتاویٰ اللجنہ الدائمہ (4؍98)میں یہ سوال ان الفاظ میں وارد ہے ۔

سوال :میرے پاس مصف شریف ہے اس کے اوراق پھٹے ہوئے ہیں میں اس کے ساتھ کیا کروں ،زمین میں دفن کروں یا نہیں ۔؟

جواب : الحمدللہ والصلا والسلام علیٰ رسولہ محمد وآلہ وصحبہ اجمعین  اما بعد :

آپکے لیے جائز ہے کہ مساجد میں کسی مسجد کی زمین میں دفن کر دیں او ریہ بھی جائز ہے کہ عثمان ﷜کی اقتداء کرتے ہوئے جلا دیں ۔پھٹے پرانے اور کتب اور  وہ اوراق جس میں قرآنی  آیتیں ہو ں کسی اچھی جگہ جو لوگوں کے آنے جانے گندگی پھینکنے سے دور ہو دفن کر دیا جائے ۔یا جلا  دیا جائے تا کہ ان کی صیانت (حفاظت )ہو اور بے حرمتی سے محفوظ ہوں عثمان ﷜کے فعل کی وجہ سے ۔

اور مجموعۃ الفتاویٰ (12؍599)مین ہے ،’ان سے پوچھا گیا کہ پرانا مصحف جب پھٹ جائے تو اس کے ساتھ کیا کیا جائے اور قرآن میں سے کچھ لکھتا ہے پھر اسے پانی سے دھوتا ہے یا جلاتا ہے تو کیا  یہ حرام ہے ،یا نہیں ؟۔

جواب کا حاصل یہ ہے کہ پرانا مصحف کا کسی محفوظ جگہ میں دفن کرنا جائز ہےجس طرح مومن کے بدن کا اکرام یہ ہے کہ کسی محفوظ جگہ میں دفن کیا جائے اور اس کا پانی کے ساتھ مٹانا بھی جائز ہے پھر وہ پانی راستے میں بہا دینا جائز ہے ،اور اسی فعل ابن عباس ﷜کی وجہ سے اس کا پینا بھی جائز ہے ،اور امام اجمد کا مذہب بھی یہی ہے اور وہ پانی جس سے نبی ﷺنے وضوء کیا برکت کے لیے بیا گیا  ٰاور اس کے ساتھ ساتھ مٹی پر  بھی بہا دیا گیا ،او راسی طرح زم زم کے پانی کے ساتھ وضوء کرنا جائز ہے اتفاقا جب کہ غسل کرنے میں دو قول ہیں ۔

میں کہتا ہوں کہ جلی ہوئی راکھ راستے میں بکھیرنا جائز ہے او رافضل یہ ہے کہ کہیں پاک جگہ پر ڈال دینا چاہیے ۔ واللہ تعالی اعلم

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص131

محدث فتویٰ

مصحف جو جل جائے کیا اسے دفن کیا جائے یا کیا کیا جائے ؟۔

(اخوکم :احمد سالم جمعہ الفارسی من عمان )

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ