سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(53) اہل میت پڑوسیوں کے کھانے کا انتظا رنہ کریں

  • 11380
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-28
  • مشاہدات : 409

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میت والوں کا اپنے لیے کھانا پکانا جائز ہے ؟یا پڑوسیوں کے کھانے کا انتظار کریں ۔ (اخو کم :امیر سلام)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میت والوں کا اپنے لیے کھانا پکانا جائز ہے ؟یا پڑوسیوں کے کھانے کا انتظار کریں ۔ (اخو کم :امیر سلام)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد
ولا حو ل ولاقوةالا باللہ۔

پروسیوں کے کھانے کا انتظار کرنا طمع ہے جو مخلوق سے جائز نہیں ،لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ ہے اس سے باکل امید قطع کر لینی چاہیے ،رسول اللہ ﷺنے پڑوسیوں کو ترغیب دلا ئی ہے کہ وہ اہل میت کے لیے کھانا تیار کریں ۔’’ آل جعفر کے لیے کھانا تیار کرو انہیں ماتم نے مشغول کر دیا ہے ‘‘۔ ابوداؤد (2؍37)ترمذی (1؍195)رقم (1009)ابن ماجہ (1؍1612)الحاکم )1؍372)احمد (1؍175)بہیقی (4؍61) احکام الجنائز ص:(167)۔

اور صحیح بخاری (2؍815)میں عائشہ ضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ جب  کبھی ان کے گھرانے کا کوئی فوت ہو جاتا اور ماتم کے لیے عورتیں اکٹھی ہو جاتیں جب وہ چلی جاتیں اور صرف گھر کی عوتیں رہ جاتیں تو ھنڈیا چڑھا کے تلبینہ پکواتیں پھر ثرید بناکے اس پر تلینہ انڈیل دیتیں او رفرماتیں یہ کھاؤ ۔میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ تلبینہ بیمار کے دل کو تقویت پہنچاتا ہے اور کچھ غم ہلکا کرتا ہے ۔

تلبینہ :یہ ایک قسم کا کھاناہے جو آٹے سے بنایا جاتا ہے اور کبھی کبھی اس میں شہد ڈال دیا جاتا ہے اور اسے تلبینہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ رقت اور سفیدی میں دودھ کے مشابہہ ہوتا ہے ۔

البتہ لوگوں کے لیے کھانا تیار کرنا حرام ہے ،جس کی تفصیل آگے آرہی ہے ۔ نشاءاللہ وللہ اعلم۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص131

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ