سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(30) تبدیلیٔ تقدیر

  • 11341
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-27
  • مشاہدات : 482

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا تقدیر بدل سکتی ہے؟یا نہیں۔   (بھائی عبدالسلام اور بھائی عبد اللہ)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد
ولا حول ولا قوة الا باللہ۔

جان لو ہ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں  کرتا اور اگر نیکی ہو تو کئی چند بڑھا تا ہے اور اپنی طرف سے اجر عظیم عطا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا رحم اپنے بندے پر ماں کا  اپنے بچے پر رحم سے بھی کئی چند زیادہ ہے اور ہمارا رب سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے توفیق دیتا ہے جب یہ بات تیرے نزدیک ثابت ہو جائے کہ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ اللہ نہ بندوں کےلیے ارادہ ظلم کرتا ہے اور نہ ہی تمام عالم پر ارادہ ظلم تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تقدیر ظلم نہیں ہے جیسے جاہل لوگ کہتے ہیں کہ جب اللہ نے کسی پر زنا کرنا تقدیر میں لکھا ہے تو پھر مؤاخذہ کیوں کرتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے  کسی انسان کے دل پر بدبختی کی مہر لگا دی ہے تو پھر اسے پکڑ کر عذاب کیوں دیتا ہے۔

ایسی بات حکمت قضا و قدر سے نا واقف شخص ہی کر سکتا ہے۔تقدیر اللہ تعالیٰ کا علم ہی ہے۔

جیسے ابن عقیل رحمہ اللہ نے امام احمد رحمہ اللہ سے تقدیر کے بارے میں پوچھا تو فرمایا:تقدیر اللہ کا علم ہے‘یعنی اللہ نے بندے پر زناکرنا نہیں نہیں لکھا حالانکہ اس کا اردہ نہیں تھا۔اور چوری سے بچنے والے پر چوری کرنا نہیں لکھا۔بلکہ اس نے لکھا ہے کہ مثال کے طور پر میں فلاں شخص کو پیدا کروں گا۔اور اسے اختیار وار ادے والا بناؤنگا اور میں طاعت او رمعصیت پیدا کرونگا۔

پس فلاں بندہ میرے مجبور کرنے سے نہیں اپنے اختیار سے معصیت کا ارادہ کریگا۔اور مجھے یہ علم ہے کہ وہ معصیت اختیار کریگا تو اس علم کو تقدیر کہتے ہیں اور یہ نہیں بدلتی ۔کیونکہ اللہ نے جان لیا ہے کہ یہ بندہ اپنے احتیار سے نا فرمانی کریگا‘تو یہ اجمالی بات بڑی مفید ہے اور اس باب کے بہت سے اشکالات دور کر دیتی ہے جو اس سے غافل رہے تو  فاسد عقائد کا شکار ہوئے جیسے جبریہ‘قدریہ اور معتزلہ تو ان میں سے بعض نے تقدیر کا سرے سے انکار کر دیا‘اور بعض نے اسے جبر بنا دیا اور اہل سنت کو اللہ نے ہدایت دی تو انہوں نے اسے اسی اجمال کے ساتھ مان لیا۔واللہ اعلم۔

مراجعہ کریں مجمو ع الفتاوٰی لابن تیمیہ‘قصیدہ نو نیہ لابن قیم رحمہ اللہ تعالیٰ  اور اس کی شروح‘اور شفاء العلیل فی مسائل القضاء والقدر والحکمۃ     والتعلیل لابن القیم رحمہ اللہ تعالیٰ ۔

قدر کی تین انواع ہیں۔

1۔:مبرم:یہ کبھی نہیں بدلتی۔

2۔:معلق: اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لکھ لیتا ہے کہ فلاں شخص اگر والدین کے ساتھ احسان کریگا اور صلہ رحمی کریگا  تو میں اس کی عمر بڑھا دوں گا اور میری نافرمانی اور قطع رحمی کرے گا اور زمین میں بغاوت کرے گا تو میں اس کا رزق و عمر گھٹا دونگا او یہ تقدیر نیکیوں اور برائیوں سے بدلتی ہے۔

3۔:فرشتوں کی کتابوں میں تقدیر:

یعنی جب ماں کے پیٹ  میں انسان میں روح پھونکی جاتب ہے فرشتہ آکر اس کا اجل رزق اور عمر اور اس طرح اس کا شقی و سعید ہونا لکھ لیتا  ہے جیسے صحیحین کی حدیث میں ہے۔

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿يَمحُوا اللَّـهُ ما يَشاءُ وَيُثبِتُ ۖ وَعِندَهُ أُمُّ الكِتـٰبِ ﴿٣٩﴾... سورة الرعد

(اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے‘لوح محفوظ اس کے پاس ہے)

مراجعہ کریں تفسیر القرطبی۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص91

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ