سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(327) شوہر کا بیوی کے پستان چوسنے سے رضاعت کا مسئلہ

  • 1131
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-07
  • مشاہدات : 25799

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
شوہر کا بیوی کے پستان چوستے ہوئے منہ میں دودھ داخل ہونے سے رضاعت کا شرعی حکم کیا ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

شوہر کا بیوی کے پستان چوستے ہوئے منہ میں دودھ داخل ہونے سے رضاعت کا شرعی حکم کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شوہر کے بیوی کا پستان چوسنے اور دودھ کی تھوڑی بہت مقدار لینے سے کیا رضاعت ثابت ہوجائے گی۔

غیر محرم کو دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے لیکن اس میں شریعت نے دودھ کی مقدار اور رضاعت کی عمر کا تعین کیا ہے۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں ،کان فيما أنزل القرآن عشر رضعات معلومات يحر من ثم نسخن بخمس معلومات۔ قرآن میں یہ حکم نازل کیا گیا تھا کہ دس بار دودھ پینا جبکہ اس کے پینے کا یقین ہوجائے نکاح کو حرام کردیتا ہے پھر یہ حکم پانچ مرتبہ یقینی طور پر دودھ پینے سے منسوخ ہوگیا۔ (صحیح مسلم کتاب الرضاع باب التحریم بخمس رضعات:1452)

حضرت عائشہ ہی سے دوسری روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا: لا تحرم المصتہ ولا لمصتان ’’ایک دفعہ اور دو دفعہ دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔‘‘ (صحیح مسلم کتاب الرضاع:1450)

حضرت اُم سلمٰہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’صرف وہی رضاعت حرمت ثابت کرتی ہے جو انتڑیوں کو کھول دے اور وہ د ودھ چھڑانے کی مدت سے پہلے ہو۔‘‘ (سنن ترمذی:1152)

ابن عباسؓ سے مروی ہے: لا رضاع إن فی الحولين ’’کوئی رضاعت معتبر نہیں سوائے اس رضاعت کے جو دو سال کے دوران ہو۔‘‘ (مصنف عبدالرزاق:3؍1390)

مندرجہ بالا روایات سے معلوم ہوا کہ دو سال کی عمر میں جب بچہ پیٹ بھر کر جس سے انتڑیاں تر ہوجائیں پانچ دفعہ دودھ پی لے تو رضاعت ثابت ہوجائے گی۔

صورت بالا میں جیسا کہ سائل نے سوال کیا ہے کہ شوہر کے دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوگی یا نہیں۔ تو اس بارے میں یہی ہے کہ یہ رضاعت ثابت نہیں ہوگی کیونکہ اوپر نصوص میں رضاعت کے لیے دو سال کا ہونا اور کم از کم پانچ مرتبہ پیٹ بھر کر دودھ پینا شرط ہے اور یہاں وہ صورت نہیں ہے۔ لہٰذا شوہر کےاپنی بیوی کا پستان منہ میں ڈالتے وقت دودھ کی محدود مقدار سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔

فتاویٰ ارکان اسلام

نمازکے مسائل  

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ