سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(156) ذاتی استعمال کے لیے خریدے گئے پلاٹوں پر زکوٰۃ

  • 11294
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-26
  • مشاہدات : 451

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ایک سر کاری  ملا ز م  ہو ں  میر ے پا س کو ئی ذا تی مکا ن نہیں ہے میں نے اپنی تنخو اہ میں سے تھو ڑ ی تھو ڑی  رقم  پس اندا زہ کر کے  اقساط پر دو پلا ٹ  اس لیے خریدے ہیں کہ  ریٹائر منٹ کے بعد  ایک  کو بیچ  کر دوسر ے  پر مکا ن  تعمیر  کر سکو ں کیا ایسے ذاتی استعما ل کے لیے خریدے گئے پلا ٹو ں پر زکو ۃ  دینا ضروری ہے  اولین  فر صت  میں جوا ب دیں :(ابو رافع  اسلا م آبا د  خریدا ری  نمبر 5780)


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ایک سر کاری  ملا ز م  ہو ں  میر ے پا س کو ئی ذا تی مکا ن نہیں ہے میں نے اپنی تنخو اہ میں سے تھو ڑ ی تھو ڑی  رقم  پس اندا زہ کر کے  اقساط پر دو پلا ٹ  اس لیے خریدے ہیں کہ  ریٹائر منٹ کے بعد  ایک  کو بیچ  کر دوسر ے  پر مکا ن  تعمیر  کر سکو ں کیا ایسے ذاتی استعما ل کے لیے خریدے گئے پلا ٹو ں پر زکو ۃ  دینا ضروری ہے  اولین  فر صت  میں جوا ب دیں :(ابو رافع  اسلا م آبا د  خریدا ری  نمبر 5780)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

زکو ۃ کے لیے تین شرا ئط جا ئز ہیں :

 (1) رقم وغیرہ نصا ب کو پہنچ جا ئے ۔

(2)وہ ضرورت سے فا ضل ہو ،(3)اس پر سا ل  گز ر جا ئے

صورت  مسئولہ  میں پلا ٹو ں  کی ما لیت  اگر چہ  نصا ب  کو پہنچتی  ہے  لیکن  وہ  ذا تی  ضرورت  کےلیے  خر ید ے گئے  ہیں اس قسم کے  پلا ٹو ں  پر زکو ۃ  نہیں ہے  ہا ں  جو پلا ٹ  تجا رتی  مفا د کے پیش نظر  خر یدے  گئے  ہو ں ان کی با زا ری  قیمت  کے مطا بق  ہر سا ل  زکو ۃ  ادا کر نا ضروری  ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:1 صفحہ:187

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ