سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(154) ٹھیکے کی زمین پر زکوٰۃ

  • 11292
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-26
  • مشاہدات : 663

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حافظ والاضلع بہا ولنگر سے حا جی ضیا ء الدین لکھتے ہیں کہ ایک آدمی کا شتکا ری کےلیے زمین ٹھیکہ پر لیتا ہے، پھر اس کی کا شت کا ری پر اخراجا ت اٹھا تا ہے مثلاً ٹر یکٹر کے ذریعے اسے بو یا جا تا ہے، پھر اس پرکھا د سپرے کٹا ئی کی مزدوری اور تھر یشر وغیرہ پر کا فی خرچہ آتا ہے کیا عشر دینے سے پہلے ان اخراجا ت کو پیداوار سے منہا کرلیا جا ئے یا کل پیداوار سے عشر ادا کیا جا ئے ؟ کتا ب و سنت کی رو شنی میں جواب دیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس جوا ب سے پہلے عشر کی حیثیت اور مقدار نیز پیداوار  کا تعین ضروری ہے جس پر عشر وصول کیا جا تا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فر ما ن ہے : کہ وہ زمین جسے با رش یا قدرتی چشمہ کا پا نی سیراب کرتا ہو یا کسی دریا کے کنارے ہونےکی وجہ سے خود بخود سیرا ب ہو جا تی ہو تو اس کی پیداوار سے دسوا ں حصہ بطور عشر لیا جا ئے گا اور وہ زمین جسے کنو ئیں سے پا نی کھینچ کر سیرا ب کیا جا تا ہے تو اس کی پیدا وار سے بیسواں حصہ لیا جا ئے گا ۔ (صحیح بخاری :زکو ۃ 1483)

اس حد یث میں پیداوار دینے وا لی زمین کی حیثیت  اور اس کی پیداوار پر مقدا رعشر کو واضح الفا ظ میں بیا ن کر دیا گیا ہے جس کی تشریح آیندہ کی جائے گی لیکن کتنی مقدا ر جنس پر عشر دینا ہو گا وہ ایک دوسر ی حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : کہ پا نچ وسق سے کم پیداوار میں زکو ۃ، یعنی عشر نہیں ہے۔(صحیح بخا ری :کتا ب الزکوۃ1484)

اور واضح رہے کہ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، گو یا نصا ب جنس 300صاع ہیں، جدید اعشا ری نظا م کے مطا بق صاع 2کلو 100گرام کا ہوتا ہے۔ اس حساب سے پا نچ  وسق کے 630 کلو گرا م ہو تے ہیں۔ بعض اہل علم کے نز دیک ایک صاع اڑھا ئی کلو کے مسا وی ہو تا ہے، لہذا ان کے ہاں پیداوار کا نصا ب 750 کلو گرام ہے۔ غربا اور مسا کین کی ضرورت کے پیش نظر پیداوار کا نصا ب 630 کلو گرا م مقرر کیا جا نا زیا دہ مناسب معلو م ہوتا ہے۔ اول الذ کر حدیث سے معلو م ہو تا ہے کہ شر یعت نے مقدا ر عشر کےلیے اس کی سیرا بی یعنی پیدا وار لینے کےلیے پا نی کو مدار قرار دیا ہے اگر کھیتی کو سیرا ب کر نے کے لیے پا نی بسہولت دستیاب ہے اس پر کسی قسم کی محنت یا مشقت نہیں اٹھا نا پڑتی تو اس میں پیدا وار کا عشر یعنی دسواں حصہ بطو ر زکو ۃ نکا لنا ہو گا۔ اس کے بر عکس اگر پا نی حاصل کر نے کے لیے محنت و مشقت اٹھا نا پڑتی ہو یا اخرا جا ت برداشت کر نا پڑیں تو اس میں نصف العشر یعنی بیسوا ں حصہ ہے۔ ہمارے ہا ں عا م طو ر پر زمینو ں کی آبپاشی دو طرح سے کی جا تی ہے :

(1)نہری پا نی :حکو مت نے اس کے لیے مستقل محکمہ انہار قا ئم کر رکھا ہے اس پر زمیندار کو محنت و مشقت کے علا وہ اخرا جا ت بھی بردا شت کر نا پڑ تے ہیں ،آبیانہ  وغیرہ ادا کر نا ہو تا ہے ،اس کے با و جود نہر ی پا نی فصلو ں کے لیے کا فی نہیں ہو تا ،اس کےلیے دوسر ے ذرائع سے ضروریات کو پو را کیا جا تا ہے ۔

(2)ٹیو ب ویل :ٹیو ب ویل لگا نے کےلیے کا فی رقم درکا ر ہو تی ہے جب اس کی تنصیب مکمل ہو جا تی ہے واپڈا کا رحم و کرم شروع ہو جا تا ہے ما ہ بما ہ کمر تو ڑ اور اعصا ب شکن بجلی کا بل ادا کر نا پڑتا ہے یا پھر گھنٹے کے حساب سے پانی خرید کر کھیتو ں کو سیراب کیا جا تا ہے، لہذا زمین سے پیداوار لینے کے لیے ذاتی محنت و مشقت اور ما لی اخرا جا ت کے پیش نظر ہما رے ہا ں پیدا وار پر نصف العشر یعنی بیسوا ں حصہ بطو ر زکو ۃ دینا ہو تا ہے، اس کے علا وہ جتنے بھی اخرا جا ت ہیں ان کا تعلق زمین کی سیرا بی یا آب پا شی سے نہیں ہے بلکہ وہ اخرا جا ت زمیندا ر پیدا وار بچا نے یا بڑھانے کے لیے کر تا ہے، مثلاً کھا د سپرے وغیر ہ یا پھر زمیندار اپنی محنت و مشقت سے بچنے اور اپنی سہو لت کے پیش نظر کرتا ہے، مثلاً بو تے وقت ٹر یکٹر کا استعمال، کٹا ئی کے وقت مز دو ر کو لگا نا یا فصل اٹھاتے وقت تھر یشر وغیرہ کا استعما ل۔

مختصر یہ کہ شریعت نے مقدار عشر کےلیے زمین کی سیرابی کو مدار بنا یا ہے اس کے علا وہ جو اخرا جا ت ہیں ان کا تعلق مقدار عشر سے نہیں ہے، لہذا جہاں زمین کی سیرا بی کے لیے قدرتی وسا ئل ہو ں گے وہا ں پیداوار سے عشر (دسوا ں حصہ ) لیا جا ئے گا اور جہا ں زمین سیراب کر نے کےلیے قدرتی وسا ئل نہیں بلکہ محنت و مشقت کر نا پڑ یں تو وہا ں نصف العشر یعنی بیسواں حصہ دینا ہو گا۔ہمارے ہا ں عام طور پر پیداوار کا بیسواں حصہ دیا جا تا ہے، پیداوار میں دسواں دینے والی زمینیں بہت کم ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں عا م طو ر پر مہا جر ین تجا رت اور انصار زراعت پیشہ تھے وہ لو گ زمین کو خو د کاشت کر تے تھے اور خود  ہی کا ٹتے اور فصل اٹھا تے تھے،البتہ زمینو ں کی سیرا بی کےلیے محنت و مشقت اور اخراجا ت بردا شت کرنے کی وجہ سے انہیں پیداوار سے بیسوا ں حصہ بطور عشر ادا کر نا ضروری تھا،اس کے علا ہ کسی قسم کے اخراجات پیداوار سے منہا نہیں کیے جا تے تھے،اسی طرح خیبر کی  زمین پیداوار کے طے شدہ حصے کے عوض کا شت کی جا تی تھی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جو حصہ ملتا اگر وہ نصا ب کو پہنچ جا تا تو اس سے اللہ تعالیٰ کا حصہ الگ کر دیتے تھے، زمیندا ر چو نکہ زمین کا ما لک ہو تا ہے وہ ٹھیکے کی اس رقم کو اپنی مجمو عی آمدنی میں شا مل کر کے اگر وہ نصاب تک پہنچتی ہےتو اس میں سے زکو ۃ ادا کر ے گا اور زمین ٹھیکے پر لینے والا کا شت کر نے میں صا حب اختیا ر ہوتا ہے اور پیداوار کا ما لک بھی وہی ہوتا ہے تو وہ مختا ر کی حیثیت سے ادا عشر کر ے گا، ٹھیکے کی رقم اس سے منہا نہیں کی جا ئے گی، اسی طرح سہو لت کےلیے یا اپنی پیداوار بڑھا نے کےلیےجو رقم خر چ کی جا تی ہے یہ اخرا جا ت بھی پیدا وار سے منہا نہیں ہو ں گے، ا لبتہ محنت و مشقت یا ما لی اخراجات جو زمین کی سیرابی پر آتے ہیں ان کے پیش نظر شر یعت نے اسے رعا یت دی ہے کہ وہ اپنی پیداوار سے بیسواں حصہ ادا کرے، اگر اس رعا یت کے با و جود ٹھیکہ کی رقم کھا د، سپرے کےلیے اخرا جا ت ، کٹا ئی کےلیے مزدوری اور تھر یشر وغیرہ کے اخرا جا ت بھی منہا کر دئیے جا ئیں تو با قی کیا بچے گا جو عشر کے طور پر ادا کیا جا ئے گا، لہذا ہمارا رجحا ن یہ ہے کہ کا شتکا ر کسی قسم کے  اخرا جا ت منہا کیے بغیر اپنی پیداوار سے بیسواں حصہ بطو ر عشر ادا کرے گا بشرطیکہ اس کی پیداوار پا نچ وسق تک پہنچ  جا ئے اگر اس سے کم ہے تو عشر نہیں ہو گا، ہا ں اگر چا ہے تو دینے پر قد غن نہیں ہے ، (واللہ اعلم )

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:1 صفحہ:185

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ