سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(127) نمازِ قصر

  • 11262
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-22
  • مشاہدات : 950

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سیالکوٹ سے مشتاق احمدلکھتے ہیں کہ کیاظہر کے وقت عصر کی نماز پڑھی جاسکتی ہےجبکہ سفر پرجاناہو، اگر مسافرعصرکے وقت اپنی منزل پر پہنچ جائے تو کیا ظہر کے ساتھ ادا کی ہوئی نماز عصردوبارہ پڑھناہوگی، وضاحت سے لکھیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واضح رہے کہ محدثین کرام کی اصطلاح میں پہلی نماز کے وقت میں دوسری نمازاداکرنا جمع تقدیم اور دوسری نماز کے وقت میں پہلی نمازادا کرناجمع تاخیر کہلاتاہے۔دوران سفردونوں طریقوں سے نمازوں کو جمع کیا جاسکتاہے۔حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے سفر میں اگرکوچ سورج ڈھلنے کے بعد ہوتا تو ظہر کے وقت بھی عصر پڑھ لیتے، پھر اپنے سفر کا آغازکرتے اور اگر سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو نماز ظہر کو مؤخر کرکے عصر کے ساتھ اداکرتے ،اس طرح مغرب اور عشاء کی ادائیگی میں کرتے تھے۔(سنن ابی داؤد،سنن ترمذی)

سفر کے علاوہ بارش بیماری یا کسی اہم ضرورت کے پیش نظر بھی جمع تقدیم یا جمع تاخیر کی جاسکتی ہے۔اگر جمع تقدیم میں پہلی نماز کے وقت میں دوسری نمازاداکرلی ہے تو سفر یا بارش کا عذر ختم ہونے کے بعددوسری نماز کاوقت باقی ہو تو اداشدہ نماز کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔(مغنی ابن قدامہ :ج2ص 281)

صورت مسئولہ میں وہ مسافر جو ظہر کے وقت نمازعصر پڑھ چکا ہے اگر وہ اپنی منزل پر عصر کے وقت پہنچ جائے تو اسے دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:1 صفحہ:158

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ