سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(145) تین وتر ایک سلام سے پڑھنا

  • 11251
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-22
  • مشاہدات : 432

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
تین وتر ایک سلام  سے پڑھے جایئں یا دو سلام سے؟ اگر دو سلام سے پڑھے جائیں تو نیت اکھٹی ہوگی یا علیحدہ علیحدہ۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

تین وتر ایک سلام  سے پڑھے جایئں یا دو سلام سے؟ اگر دو سلام سے پڑھے جائیں تو نیت اکھٹی ہوگی یا علیحدہ علیحدہ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تین وتر پڑھتے وقت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کاارشاد گرامی ہے۔ کہ انہیں ایسے انداز میں پڑھا جائے کہ نماز مغرب سے مشابہت نہ ہو۔(دارقطنی :2/25)

اس حدیث کے پیش نظر  تین وتر اد کرنے کے دو  طریقے حسب زیل ہیں:

1۔مفصول:دو رکعت پڑھ کر سلام  پھیر دیا جائے  پھرایک رکعت ادا ک جائے ایساکرنا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت ہے اس صورت میں آخری ایک  رکعت کے لئے نیت الگ کرنا ہوگی۔

2۔موصول:دو رکعت کے بعد تشہد کے بغیر کھڑا ہوجائے اورتیسری رکعت ادا کرے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا کرنا عملاً ثابت ہے۔(نسائی ۔بیہقی)

حضرت ابن عباس  رضی ا للہ تعالیٰ عنہ  سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔(محلی ابن حزم 3/47)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج1ص146

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ