سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(140) مسافر کی مقیم کی اقتداء میں نماز ادا کرنا

  • 11246
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-22
  • مشاہدات : 571

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
فیصل آباد سے قاری حبیب اللہ بسمل خریداری نمبر 1483 لکھتے ہیں کہ اگر مسافر آدمی کسی مقیم امام  کی اقتداء میں نماز ادا کرے اور اتفاق سے آخری دو رکعات میں شامل ہو تو کیا اسے  امام کے ساتھ سلام پھیر دینا  چاہیے۔ یا اسے چار رکعت پڑھنا ضروری ہیں۔وضاحت فرمایئں۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

فیصل آباد سے قاری حبیب اللہ بسمل خریداری نمبر 1483 لکھتے ہیں کہ اگر مسافر آدمی کسی مقیم امام  کی اقتداء میں نماز ادا کرے اور اتفاق سے آخری دو رکعات میں شامل ہو تو کیا اسے  امام کے ساتھ سلام پھیر دینا  چاہیے۔ یا اسے چار رکعت پڑھنا ضروری ہیں۔وضاحت فرمایئں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسافر انسان پر دو رکعت ادا کرنا ہی فرض ہے اس لئے عقل کا تقاضا تو یہی ہے کہ مسافر اگر مقیم کی اقتداء میں تیسری یاچوتھی رکعت میں شامل ہو تو اسے دو رکعت ادا کرنے کے بعد سلام  پھیر دینا چاہیے۔ لیکن شریعت کے بعض نصوص اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین  کے آثار ایسے ملتے ہیں۔ کہ اس معاملہ میں عقل کے فیصلے کے مطابق عمل نہیں کیا جاسکتا چنانچہ حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے دریافت کیا گیا کہ مسافر جب اکیلا نماز پڑھتا ہے۔ تو دو رکعات اد ا کرتا ہے۔اور جب مقیم کی اقتداء میں پڑھتا ہے۔ تو چار رکعتیں پڑھتا ہے۔ اس کی کیا  وجہ ہے؟آپ نے فرمایا:''یہی ابوالقاسم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت ہے۔''(مسنداامام احمد :ج 2 ص 503)

امام ابن ابی شیبہ  رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنی تالیف میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے۔جب مقیم امام کے ساتھ نماز میں شامل ہو تو کیا کرے؟اس کےتحت انھوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین  اور تابعین  رحمۃ اللہ علیہ  کے چند ایسے آثار نقل  فرمائے ہیں کہ مسافر جب کسی مقیم شخص کی اقتداء میں نماز پڑھے تو اسے مکمل نماز پڑھنی چاہیے۔ان آثار کی تفصیل حسب زیل ہے۔

1۔حضرت ابن عمر رضی ا للہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں:'' کہ اگر مسافر مقیم امام کے ساتھ ایک رکعت میں شامل ہو تو امام کے ساتھ باجماعت نماز اداکرنے کے بعد جو نماز رہ گئی ہو اسے ادا کرے۔''

2۔حضرت ابن عباس  رضی ا للہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں:'' کہ جب مسافر مقیم امام کے پیچھے نماز ادا کرے تو اسے پوری نماز پڑھنی چاہیے۔''

3۔حضرت مکحول سے روایت ہے:'' کہ اگر مسافر کسی مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھے اور اسے ایک یا دو رکعت با جماعت مل جایئں تو امام کے ساتھ نماز اداکرکے اس کے بعد بقیہ نماز پوری کرے۔''

4۔حضرت جابر بن زید  رضی ا للہ تعالیٰ عنہ  سے سفر کی نماز کے متعلق سوا ل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:'' کہ اگر تم اکیلے نماز پڑھو  تو دو رکعت اور باجماعت ادا کرو تو مقیم امام کے اقتداء کے پیش نظر پوری نماز پڑھو۔''حضرت سعید بن جبیر ابراہیم نخعی قاسم او ر عطاء بن ابی رباح کابھی یہ فتویٰ ہے۔(مصنف ابن ابی شیبہ:ج1ص 382)

ان آثار کے پیش نظر مسافر کو چاہیے کہ مقیم امام کی اقتداء کرتے ہوئے پوری نماز ادا کرے۔

نوٹ

راقم الحروف کافی عرصہ تک عقل کے تقاضے کے مطابق اگر مقیم امام کے پیچھے اتفاقاً مسافر کودو یا ایک  رکعت مل جانے پر مسافر کے لئے دو رکعت ادا کرنے کا قائل اور فاعل تھا مذکورہ حوالہ جات دستیاب ہونے  پر اس  موقف سے رجوع کیا۔ان آثار کی نشاندہی عزیزم محمد حماد نے کی جزاک اللہ خیرا        واضح رہے کہ  تحدیث نعمت کے طور پر یہ نوٹ لکھا گیا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج1ص143

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ