سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(90) نابالغ بچے کا جماعت کروانا

  • 11218
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-21
  • مشاہدات : 2086

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ملتان سے ڈاکٹر بشیر احمد قاضی سوال کرتے ہیں کہ میرے دو بیٹے قرآن مجید حفظ کرتے ہیں۔ہم رمضان میں ان سے نمازتراویح میں قرآن مجید سننے کا اہتمام کرتے ہیں۔بعض دوستوں کا کہنا ہے کہ نابالغ بچے کا جماعت کرانا صحیح نہیں ہے اس کے متعلق ہماری راہنمائی کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہمارے ہاں احناف کا موقف یہ ہے کہ نابالغ بچے کے زمہ نہ تراویح سنت موکدہ ہے جب کہ بالغ شخص کےلئے  تراویح کی ادائیگی سنت ہے اس لئے اقتدائے ضعیف کی وجہ سے نابالغ بچے کو تراویح میں امام بنانا درست نہیں۔تاہم اگر وہ نابالغ بچوں کو  تراویح پڑھائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔(امداد الفتاویٰ :1/361)

لیکن یہ موقف کتاب وسنت کے خلاف ہے۔کیونکہ امامت کی شرائط میں کوئی ایسی شرط نہیں ہے کہ بچہ امامت کے اہل نہیں صرف اتنا ضرور ہے کہ بچہ طہارت ونجاست کی تمیز کرسکتا ہو اگر بچہ سمجھدار ہے اور سن رشد میں  پہنچ کر اپنی پاکی پلیدی کا خیال رکھتا ہے تو اس کی امامت بلا کراہت جائز ہے۔حضرت عمرو بن سلمہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بیا ن کرتے ہیں کہ ہماراگھر مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک ایسی جگہ پر واقع تھا جہاں مسلمان بکثرت گزرتے تھے۔میں نے ان سے مسلمان ہونے سے پہلے قرآن کریم کا  کافی حصہ یاد کرلیا تھا۔ جب فتح مکہ ہوا تو میرے والد محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس مکہ میں حاضر ہوئے اور اپنا اسلام پیش کیا۔آپ نے نماز روزہ کے متعلق ہدایات دینے کے ساتھ یہ بھی  فرمایا کہ جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان دے اور جسے قراءت زیادہ یاد ہو وہ امامت کے فرائض سر انجام دے۔ مجھے چونکہ قرآن کا کافی حصہ یاد تھا۔ا س لئے جماعت کے لئے مجھے منتخب کرلیا گیا اس  وقت میر ی  عمر بمشکل چھ یا سات سال تھی۔دوران جماعت مجھ پر صرف ایک چادر ہوتی جو بعض اوقات بحالت سجدہ پیچھے سے ایک طرف ہٹ جاتی ایک دن کسی عورت نے کہا کہ اپنے امام کی مکمل طور پر ستر پوشی تو کرو ۔اہل قبیلہ نے مجھے ایک قیمص بنوادی جس سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔(صحیح بخاری :کتاب المغاذی    4302)

اس حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا  ہے کہ نابالغ بچہ جسے طہارت ونجاست کی تمیز ہے وہ فرائض کی امامت بھی کراسکتا ہے نماز تراویح تو نوافل ہیں ا س کی جماعت تو بالاولیٰ درست ہے۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جماعت کے لئے جو معیار قائم فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کریم زیادہ یاد ہو۔اگر قراءت میں برابر ہیں تو عمر کے لہاظ س جو بڑا ہوا سے جماعت  کے لئے منتخب کرنا چاہیے صورت مسئولہ میں بچے نماز تراویح کی جماعت کراسکتے ہیں۔جبکہ وہ قرآن کریم کا بیشتر حصہ یاد کئے ہوئے ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:1 صفحہ:127

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ