سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(07) فرقہ بازی

  • 11127
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-14
  • مشاہدات : 688

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد بشیر  بذریعہ  ای میل  سوال کر تے ہیں  کہ فرقہ  با ز ی کیا ہے ؟ جسے اللہ تعا لیٰ نے معیو ب  قرار دیا ہے  حکو مت اور عوام  النا س  بھی اس  کی مذمت  کرتے ہیں ۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد بشیر  بذریعہ  ای میل  سوال کر تے ہیں  کہ فرقہ  با ز ی کیا ہے ؟ جسے اللہ تعا لیٰ نے معیو ب  قرار دیا ہے  حکو مت اور عوام  النا س  بھی اس  کی مذمت  کرتے ہیں ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اہل تفرق  کے متعلق  ارشا د  با ر ی تعا لیٰ  ہے : "جن لو گو ں نے اپنے دین  میں تفرقہ  ڈا لا  اور فرقوں  میں بٹ گئے  ان  سے آپ  کو کچھ  سرو کا ر  نہیں  ان کا معا ملہ  اللہ کے سپر د  ہے ۔(6/الانعا م:159)

فرقہ با زی ایک ایسی لعنت  اور با عث  مذمت  ہے جو ملت  کی و حد ت کو پارہ پا رہ  کر کے رکھ دیتی ہے  جن لعو گو ں میں یہ عا د ت   بد پا ئی جا تی ہے ان کی سا کھ اور عز ت  دنیا  کی نظرو ں  سے گر جا تی  ہے اللہ تعا لیٰ نے فرقہ بند ی  کو اپنے  عذا ب  کی ایک شکل  قرار  دیا ہے  چنا نچہ  ارشا د با ر ی تعا لیٰ  ہے : آپ ان سے کہہ دیجیے  !اللہ  اس با ت پر قا در  ہے کہ وہ تم  پر  تمہارے  اوپر  سے کو ئی عذا ب  نا ز ل  کر ے  یا تمہا رے پا ؤں کے نیچے  سے کو ئی عذا ب  مسلط کر  دے  یا تمہیں  گرو ہوں میں تقسیم کر کے  ایک فرقے کو دوسرے  سے لڑا ئی کا مزا چکھا دے ۔ (6/الانعا م :159)

حدیث  میں ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے آیت  با لا  میں ذکر  کر دہ  تمام  قسم کے عذا بو ں  سے اللہ کی پنا ہ ما نگی  اور دعا کی کہ میر ی  امت  پر اس قسم کے عذاب   نہ آئیں  چنا نچہ  پہلی  اور دوسری قسم  کے عذا بو ں کے  متعلق  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی دعا قبو ل ہو گئی  مگر  تیسری  قسم  کے  عذا ب  جو فر قہ  بند ی  سے متعلق  ہے دعا  قبو ل نہ ہو ئی  بلکہ  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے اس  عذا ب  کو پہلے  دو نو ں  عذ ابو ں کی نسبت  آسا ن  قرار  دیا ہے(صحیح بخا ری تفسیر 4628)

 اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلی دو قسم  کا عذا ب  اس امت کے  کلی  استیصا ل کے لئے  نہیں  آئے  گا البتہ  جز وی  طو ر  پر  آسکتا  ہے  رہا  تیسری  قسم کا عذاب  تو وہ  اس امت  میں مو جو د  ہے  جس  نے ملت  اسلا میہ  کی  و حد ت  کو پا ر ہ پا رہ  کر کے  مسلما نوں  کو ایک  مغلو ب  قو م بنا  رکھا  ہے چنا نچہ  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے بطو ر  پیشین گو ئی  فر ما یا تھا :  " بنی اسرائیل  بہتر  فر قو ں میں  تقسیم  ہو گئے  جبکہ  میر ی  امت  تہتر  فر قو ں  میں بٹ  جا ئے  گی  ایک  گر و ہ  کے علا وہ  سب  فر قے  جہنم  کا  ایند ھن  ہو ں گے  ۔صحا بہ  رضوان اللہ عنہم اجمعین  نے عرض  کیا کہ  نجا ت  یا فتہ  کو ن  ہو ں گے ؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا جو اس راہ پر چلیں گے  جس پر  میں اور میر ے  اصحا ب  ہیں ۔(جا مع تر ندی : الا یما ن 2641)

 اس حدیث میں رسو ل اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے  اس معیا ر  کی نشا ندہی  فر ما دی ہے  جو قیا مت  کے دن  اس کے عذا ب  سے نجا ت  کا با عث  ہو گا ۔ قرآن  پا ک  میں  اسے  صرا ط  مستقیم  اور سبیل  المؤ منین  کے نا م سے یا د کیا گیا  ہے  اللہ تعالیٰ  نے دوسرے  مقا م  پر  فر قہ با ز وں  کو مشر کین   کے لفظ  سے  ذکر کیا ہے ارشا د با ر ی تعا لیٰ  ہے :"اور ان مشر کین سے نہ جا ؤ  جنہو ں  نے  اپنا  دین  الگ  کر لیا اور گر وہو ں  میں بٹ  گئے  ہر گرو کے پاس  جو کچھ ہے وہ  اسی میں مگن  ہے ۔(30/الرو م :32)

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر مذہبی یا سیا سی  فرقہ کا آغا ز بدعی عقید ہ یا بد عی عمل سے ہو تا ہے  مثلاً کسی رسول یا بزرگ  کو اس کے اصلی  مقا م سے اٹھا کر اللہ کی صفا ت میں شر یک بنا دینا یہی وہ غلو فی  الدین ہے  جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فر ما یا ہے پھر یہ فرقہ با ز ی  عمو ماً دو قسم کی ہو تی ہے ۔

ایک مذہبی جیسے  کسی امام کی تقلید  میں با یں  طور انتہا  پسندی  سے کا م  لینا کہ اس امام کو منصب  رسا لت  پر بٹھا  دینا  گو یا وہ معصوم  عن الحظا ہے یا کسی معمو لی اختلا ف  کو کفر و اسلا م کی بنیا د  قرار  دینا یا یا کسی  اہم  اختلا ف  کو باہمی  رواداری کے خلا ف خیا ل کر نا وغیرہ ،دوسری سیا سی  جیسے علا قا ئی  قو ی لسا نی  بنیا دوں  پر لو گو ں  کو تقسیم  کر نا  درج  ذیل  عقا ئد  اس فرقہ بازی کی زد میں آتے ہیں ۔

(1)اللہ کے بجا ئے  عوا م کی با لا دستی  اور انہیں  طا قت  کا سر چشمہ  قرار  دینا ۔(2)اللہ کی ذا ت اور ابنیا ء  رحمۃ اللہ علیہ  کے معجزا ت  کا انکا ر ۔

(3) کچھ  ایمہ  کو معصو م  اور ما مون قرا ر  دینا  الغر ض  جتنے  فرقے ہیں  خواہ مذہبی  ہو ں یا سیا سی ا ن کو کو ئی عقیدہ یا عمل  ضرو  ر کتا ب  و سنت  کے خلا ف ہو گا بد عی عمل کا تعلق  سنت  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کے برعکس  ہو تا  ہے یعنی  کسی  سنت  کو  دیدہ   دانستہ  نظر  انداز کر دینا  یا کسی  نئے  کا م  کو ثواب  کی نیت  سے شروع   کر دینا  وغیرہ  اس کا   مطلب  یہ ہو تا ہے کہ دین میں پہلے  کمی رہ گئی تھی  جو اس  تر میم یا اضا فہ  سے پو ری  کی جا رہی ہے (اعا ذ نا  اللہ  منہ ) اگر  مز ید  کیا جا ئے تو گر وہ  بندی  کی تہ  میں دو ہی اغرا ض  پوشیدہ  ہو تی ہیں  ایک ما ل کی محبت  دوسرے  اقتدا کی چا ہت  چنانچہ  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا :" کہ بکر یو ں کے کسی ریوڑ  میں  دو بھو کے  بھیڑیے   اتنی  تبا ہی   نہیں  مچا تے  جتنا  ما ل  کی محبت  اور منصب   کی چا ہت  کسی کے ایما ن  کو بر با د  کر تی ہیں (جا مع  تر ندی :الز ہد 2376)

اس فر قہ  بندی سے محفو ظ رہنے کا صرفایک ہی طریقہ ہے  کہ قرآ ن  و  صحیح احا دیث کے مطا بق  زندگی  بسر  کی جا ئے  اور سلسلہ   میں  دا ئیں  با ئیں   جھانکنے  سے اجتنا ب  کیا جا  سکے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج1ص34

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ