السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا بدگمانی ہرحال میں حرام ہے ؟ براہ کرم اس موضوع پر مستفید فرمائیں ؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ارشاد باری تعالی ہے :
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اجتَنِبوا كَثيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعضَ الظَّنِّ إِثمٌ...﴿١٢﴾... سورةالحجرات
’’اے ایمان والو ! بہت زیادہ گمان سے کرنےسےبچو ، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ۔‘‘
ہر گمان گناہ نہیں ہوتا ، جو گمان مختلف قرائن اور علامات کی بنیاد پر یقین کی طرح ہو اس میں کوئی حرج نہیں ، مگر جو گمان محض وہم کی بنا پر ہو وہ جائز نہیں ۔
فرض کریں آپ نے ایک باکردار شخص کےساتھ کسی عورت کو دیکھا تومحض عورت کےغیر محرم ہونے کی وجہ سے ایسے شخص کےبارے میں بدگمانی جائز نہیں ، کیونکہ یہ ایسا ظن ہے جو انسان کو گناہ گار کردیتا ہے ۔ البتہ اگر بدگمانی کےلیے کوئی شرعی سبب پایا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔
علمائے کرام فرماتےہیں : کسی بظار عادل شخص کے بارے میں بدگمانی جائز نہیں
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب