سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(706) آیات و احادیث کا الٹکانا

  • 11082
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-10
  • مشاہدات : 667

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآنی سورتوں یا آیات کا دیوار پر لٹکانا حرام ہے حالانکہ ان سورتوں یا آیات مثلا سورہ یس اور آیت الکرسی کو ان کے فضائل کی وجہ سے لٹکایا جاتاہے ، امید ہے آپ اس مسئلہ کے بارے میں شرعی حکم بیان فرمائیں گے ۔ جزاکم اللہ خیرا

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآنی سورتوں یا آیات کا دیوار پر لٹکانا حرام ہے حالانکہ ان سورتوں یا آیات مثلا سورہ یس اور آیت الکرسی کو ان کے فضائل کی وجہ سے لٹکایا جاتاہے ، امید ہے آپ اس مسئلہ کے بارے میں شرعی حکم بیان فرمائیں گے ۔ جزاکم اللہ خیرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صحیح بات یہ ہے کہ اگر دفتر یا ڈرائیگ روم میں وعظ و نصیحت اور یاد دہانی کے لیے دیواروں پر آیات یا سورتوں کو لکھ کر لٹکا دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ گو بعض علماء نے اسے مکروہ قرار دیاہے ،مگر صحیح بات یہ ہے کہ اگر مقصود وعظ و نصیحت اوریاد دہانی ہو تو بھر اس میں کوئی جرح نہیں  ہے بشرطیکہ باتوں کو جو وعظ و نصیحت پر مبنی ہوں ، لٹکایا جا سکتا ہے اور اگر ان کے لٹکانے سے مقصد کچھ اور ہو مثلا یہ کہ جن یا نظر بد وغیرہ سےمحفوظ رکھیں گی تو پھر اس مقصد کے لیے اور اس اعتقاد کے ساتھ انہیں لٹکایا جائز نہیں ہوگا کیونکہ شریعت سے یہ ثابت نہیں ہے اور وہ اس کوئی قابل اعتماد دلیل ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص535

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ