سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(969) آیات والے کاغذات کو پھینکنا جائز نہیں ہے

  • 11072
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-09
  • مشاہدات : 471

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم لوک ایسے اخبارات او رجرائد کو استعمال کرتےہیں ، جن میں اللہ کانام لیا ہوتاہے اور پھر انہیں کو ڑا کرکٹ مین پھینک دیتے ہیں ، کیا یہ جائز ہے ؟ کیا نیکر کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے ، جو گھٹنون سے اوپر تک ہوتی ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی ایسی چیز کو جس پر اللہ تعالی کی آیات یا رسول  اللہ ﷺ کا احادیث لکھی ہون ، کسی ایسی جگہ رکھنا جہاں ان کی بےحرمتی ہوتی ہو جائز نہیں ہےکیونکہ اللہ تعالی کا کلام بہت باعظمت ہے ، اس کا احترام و اجب ہے ۔ یہی وجہ سے کہ جنبی کےلیے قرآن مجید کو پڑھنا اور ہاتھ لگانا  جائز نہیں ہے ، البتہ بہت سے بلکہ اکثر اہل علم کی رائے یہ ہےکہ اگر اس نے وضو کیا ہو تو پھر ہاتھ لگا سکتاہے ۔ ایسے کاغذات کو جن پر آیات و احادیث مطبوع ہوں ،استعمال کےبعد یا تو اچھی طرح جلا دیا جائے یا جدید آلات کے ساتھ ان کی اس طرح قطع و برید کردی جائے کہ ان کے حروف میں سے کچھ بھی باقی نہ رہے ۔ ایسی چھوٹی نیکروں میں نماز پڑھنا جو ناف سے لے کر گھٹنے تک کے مقام کو نہ چھپائیں ، جائز نہیں ہے الا یہ کہ ان کے اوپر ایسالمبا لباس پہنا ہو ا ہو جو ستر پوشی کے تقاضوں کو پورا کر رہا ہو ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص528

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ