سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(673) آٹھویں ماہ میں بچے کی ولادت

  • 11050
  • تاریخ اشاعت : 2024-03-03
  • مشاہدات : 1267

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے بچےکی سات ماہ اور آٹھویں دن بعد غیر طبعی طور پر ولادت ہوئی ہے ، کیا اس طرح پیدا ہونے والے بچآ کو پورا بچہ قرار دیا جاسکتاہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صحیح بات یہ ہے کہ بچہ چار ماہ کےبعد پیدا ہو تو اس کا حکم زندہ پیدا ہونے والے بچے کا ہوگا بلکہ وہ زندہ ہوگا کیونکہ جب چار ماہ پورے ہوجائیں تو بچے میں روح پھونک دی جاتی ہے ، لہذا بچہ جب چار ماہ کےبعد ساقط ہو تواسے غسل دیا جائے گا ، کفن پہنایاجائے گا ، اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اوراسےمسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائےکا۔ اہل علم فرماتےہیں کہ ایسے بچے کانام بھی رکھنا چاہیے۔ اگر معلوم ہو کہ لڑکا ہےتو لڑکوں جیسا اور اگر معلوم ہوکہ لڑکی ہے تو لڑکیوں جیسا اس کانام رکھا جائے اور اگر یہ معلوم نہ ہوسکے کہ وہ لڑکا ہے یا لڑکی تو کوئی ایسا نام رکھا جائےجو دونوں ہی کےلیے موزوں ہو مثلا ’’ہبہ اللہ ‘‘ یا  اس سے ملتا جلتا نام اس کا عقیقہ کیا جائے کیونکہ اسے بھی قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص509

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ