سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(668) غیر مسلم کی مدد کرنا

  • 11045
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-09
  • مشاہدات : 1098

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگرکوئی مسلمان کسی غیر مسلم کی مدد کرےتو کیااس سے وہ اس کابھائی بن جائے گا ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر کوئی مسلمان کسی غیر حربی غیر مسلم و کافر کی مدد کرے تو اس سے وہ اس کا بھائی نہیں بن جائے گا اور نہ وہ محرم بنےگا اگر مدد کرنے والی عورت ہو ،تاکہ مدد کرنے والے کو ثواب ضرور ملے گا کیونکہ یہ نیکی ہے اور نیکی خواہ  کافر ہی سے کیوں نہ کی جائے ، یہ ایک پسندیدہ عمل ہے ، ارشاد باری تعالی ہے :

﴿وَأَحسِنوا ۛ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُحسِنينَ ﴿١٩٥﴾... سورةالبقرة

’’ اور نیکی کر و ، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتاہے ۔ ‘‘

اور فرمایا :

﴿لا يَنهىٰكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذينَ لَم يُقـٰتِلوكُم فِى الدّينِ وَلَم يُخرِ‌جوكُم مِن دِيـٰرِ‌كُم أَن تَبَرّ‌وهُم وَتُقسِطوا إِلَيهِم ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُقسِطينَ ﴿٨﴾... سورةالممتحنة

’’جن لوگوں نے تم سےدین کےبارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سےنکالا ، ان کےساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنےسےاللہ تم کو منع نہیں کرتا ۔ اللہ تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔‘‘

اور نبی ﷺ نے فرمایاہے :

«وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ فِي عَوْنِ أَخِيهِ» (صحیح مسلم ،الذکر والدعاء ، باب فضل الاجتماع علی تلاوة القرآن وعلی الذکر ،  ح: 2699)

الله تعالي بندے کی مدد میں ہوتاہے، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے ۔‘‘

نیز نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایاہے:

(من كان في حاجة اخيه * كان الله في حاجته )) ( صحيح البخاري ، المظالم ، باب اليظلم المسلم  المسلم ولا يسلمه ، ح 2442 وصحيح مسلم ، البر والصلة ، باب تحريم الظلم ، ح 2580)

’’ جو شخص اپنے بھائی کی ضروت کو پورا کرے ، اللہ تعالی اس کر ضرورت کو پورا کرتارہتاہے ۔‘‘

ان دونوں حدیثوں کا تعلق مسلمان سے ہے اور غیر مسلم کے حوالہ سے صحیح بخاری و مسلم میں حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں اپنی ماں سے صلہ رحمی کی اجازت دے  دی تھی ، جو کہ کافرہ تھیں (صحیح البخاری ، الہبۃ وفضلہا والتحریض علیہا ، باب الہدیۃ للمشرکین ، حدیث 2620 وصحیح مسلم ،الزکاۃ ، باب فضل النفقۃ والصدقۃ علی الاقربین والزوج ۔۔۔الخ، حدیث 1003 )) اور یہ اس وقت کی بات ہے جب رسول اللہ ﷺ اور اہل مکہ کے مابین مصالحت ہوچکی تھی ۔ یاد رہے ! حربی کفار کی کسی قسم کی مدد کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ ان کی مدد کرنے سے مسلمان دائزہ اسلا م سے خارج ہو جاتاہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :

﴿وَمَن يَتَوَلَّهُم مِنكُم فَإِنَّهُ مِنهُم ۗ إِنَّ اللَّهَ لا يَهدِى القَومَ الظّـٰلِمينَ ﴿٥١﴾... سورةالنساء

’’اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا تو وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص507

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ