سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(661) رسم و رواج

  • 11038
  • تاریخ اشاعت : 2024-02-27
  • مشاہدات : 1433

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اسلامی معاشروں میں بسا اوقات اس مفہوم کے لیے کہ یہ معاشرے اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل پیرا ہیں ، اس  طرح کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں کہ ’’اسلامی رسم و رواج کے ساتھ چلتے ہوئے ۔‘‘ بعض معاصر علماء اس قسم کے الفاظ استعما  ل کرنا جائز نہیں سمجھتے کیونکہ اسلام تو عادات و تقالید  اور رسم و رواج کے خلاف ہے ۔ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ الفاظ دشمنان اسلام کی طرف سےپھیلائے ہوئے ہیں ، جب کہ کچھ اہل علم کی یہ رائے ہے کہ ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ان سے یہ معلوم ہوتاہے کہ مسلم سر تسلیم خم کیے ہوئے ہے اس حکم کے سامنے جو اس کے رب نے اسے دیا یااس کے رسول ﷺ نے اسے دیا ہے ، ایک اچھا مسلمان  اس کے سوا کسی اور طرف نہیں دیکھتا ۔ عبادت سے مقصود بھی یہی ہے ۔ امید ہے آپ دلائل کے ساتھ راہنمائی فرمائیں گے بلکہ  اسطرح کے الفاظ استعمال کرنا جائز ہیں یا ناجائز ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلام عادات وتقالید اوررسم و رواج کانام نہیں ہےبلکہ یہ تو اس وحی کا نام ہے ، جسے اللہ تعالی نے اپنے رسول  کی طرف بھیجا اورجسےاپنی کتابوں کی صورت میں نازل فرمایا ۔ جب مسلمان اسےاختیار کرلیں اوراس کےمطابق عمل کو اپنا شعار بنالیں تو یہ ان کا اخلاق و کردار بن جاتاہے ۔ ہر مسلمان جانتا ہے کہ اسلام کوئی ایسا نظام نہیں ہے جو رسم و رواج سے تشکیل پاتاہو بلکہ یہ تو اللہ تعالی اور اس کے رسولوں کے ساتھ ایمان لانے  اور اسلامی شریعت کے دیگر تمام اصولوں کے ماننے کانام ہے ۔ لیکن غیر شعوری طور پر ان کے ریڈیو، ٹیلی ویزن اور اخبارات و جرائد میںایسے الفاظ عام استعمال ہورہے ہیں ، جن کے بارے میں سوال کیا گیا ہے کہ ’’اسلامی عادات و تقالید کے ساتھ چلتےہوئے ‘‘ ،مسلمان ان الفاظ کو حسن نیت ہی سے استعمال کرتے ہیں اور ان کا مقصد اس سے دین اسلام اور اس کے احکام کی اطاعت و پابندی ہوتاہے ۔ یہ مقصد بلا شبہ  نیک اور قابل ستائش ہے  لیکن انہیں چاہیے کہ اپنے مقصد کے اظہار کےلیے ایسی عبارت استعمال کریں ،جو واضح ہو اور جس سے معلوم ہو کہ اسلام ایسی تقلید و رسوم کانام نہیں ہے ،جن کو ہم نے اپنے مسلمان اسلاف سے روثہ میں پایا ہے ، اسےلیے ہم انہیں اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ لہذا مذکورہ بالا الفاظ کی بجائے اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے چاہییں کہ ’’اسلامی شریعت  اور اس کے عادلانہ احکام کے مطابق چلتے ہوئے ‘‘ یاد رہے ! مسلمان کے لیے صرف یہی بات کافی نہیں ہےکہ اس کی نیت اچھی ہو بلکہ اس کے لیے عبارت بھی صحیح اور واضح  استعما ل کرنی چاہیے لہذا مسلمان کو کوئی ایسی عبارت استعمال نہیں کرنی چاہیے جس سے یہ شبہ اوروہم ہو کہ اسلامی شریعت رسم و رواج کانام ہے ۔ حسن نیت کی وجہ سے الفاظ کی اس قسم کی لغزشوں کومعاف نہیں کیا جاسکتا ،جب کہ وہ ایسا طریقہ اختیار کر سکتا اورزبان سے ایسے الفاظ ادا کرسکتاہے ، جو اس  طرح کے شکوک و شبہات اوراوہام سےپاک ہوں ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص503

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ