سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(608) لاٹری کے انعام کا اسلامی سکیموں میں خرچ کرنا

  • 10985
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-08
  • مشاہدات : 505

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

لاٹری میں شرکت کے بارے میں کیا حکم ہے ، شرکت کی صورت یہ ہوتی ہے کہ آدمی ٹکٹ خریدتاہے اور اگر قسمت ساتھ دے تو وہ بطور انعام بہت بڑی رقم حاصل کرلیتا ہے ،لیکن یاد رہے کہ اس شخص کی نیت یہ ہے کہ وہ اس رقم کو حاصل کرکے اسلامی سکیموں میں خرچ کرے اور مجاہدین کی مدد کرے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ صورت جو سائل نے بیان کی ہے کہ وہ ٹکٹ خریدتا ہے اور پھر اگر قسمت ساتھ دے تو اسے بطور انعام بہت بڑی رقم مل جاتی ہے یہ اس جوئے میں داخل ہے جس  کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِنَّمَا الخَمرُ‌ وَالمَيسِرُ‌ وَالأَنصابُ وَالأَزلـٰمُ رِ‌جسٌ مِن عَمَلِ الشَّيطـٰنِ فَاجتَنِبوهُ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ﴿٩٠ إِنَّما يُر‌يدُ الشَّيطـٰنُ أَن يوقِعَ بَينَكُمُ العَد‌ٰوَةَ وَالبَغضاءَ فِى الخَمرِ‌ وَالمَيسِرِ‌ وَيَصُدَّكُم عَن ذِكرِ‌ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلو‌ٰةِ ۖ فَهَل أَنتُم مُنتَهونَ ﴿٩١ وَأَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّ‌سولَ وَاحذَر‌وا ۚ فَإِن تَوَلَّيتُم فَاعلَموا أَنَّما عَلىٰ رَ‌سولِنَا البَلـٰغُ المُبينُ ﴿٩٢﴾... سورةالمائدة

’’اے ایمان والو ! شراب اور جوا اور بت او رپانسے ( یہ سب )  ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں ، سو ان سے بچتے رہنا تاکہ تم نجات پاؤ ۔شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے )باز رہنا چاہیے ۔اور اللہ تعالی کی فرمانبرداری اور ( اللہ کے ) رسول کی اطاعت کرتے رہو اور ڈرتے رہو ، اگر منہ پھیرو گے تو جان رکھو کہ ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے ۔‘‘

ہر معاملہ جو تاوان اورمال مفت حاصل کرنےمیں دائرہو اور معاملہ کرنے والے کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ مال مفت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا یا اسے تاوان ادا کرنا پڑے گا ، جوا ہے اور جوا کبیرہ گناہوں میں سے ہے اور اس کیا تمام صورتیں حرام ہیں اور اس کی قباحت انسان سے مخفی نہیں رہنی چاہیے کیونکہ اللہ تعالی نے اسے بتوں کے عبادت ، شراب اور پانسوں کے ساتھ ملا کر ذکر فرمایا ہے ۔ اس میں اگر نفع کی توقع ہوتی تو اس میں نقصان کا پہلو بھی ضرور ہوتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :

﴿يَسـَٔلونَكَ عَنِ الخَمرِ‌ وَالمَيسِرِ‌ ۖ قُل فيهِما إِثمٌ كَبيرٌ‌ وَمَنـٰفِعُ لِلنّاسِ وَإِثمُهُما أَكبَرُ‌ مِن نَفعِهِما...﴿٢١٩﴾... سورةالبقرة

’’اے پیغمبر ! لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں کہہ دیجئے کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں ، مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں ۔‘‘

اس آیت پر غور فرمائیں کہ اس میں منافع کا لفظ تو جمع کے صیغہ کے ساتھ آیا ہے مگر اثم کا لفظ مفرد کے صیغہ کے ساتھ ہے یعنی یہ نہیں فرمایا کہ ’’ فِيهِمَا آِثامٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ ‘‘بلکہ یہ فرمایا ہے کہ ’’ إِثْمٌ كَبِيرٌ ‘‘ اور یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اس میں منافع خواہ کس قدر زیادہ اورمتعدد صورتوں میں کیوں نہ ہو بہرحال ان کا ایک بہت بڑے گناہ نے احاطہ کیا ہوا ہے اور وہ بڑا گناہ فوائد ومنافع کی نسبت راجح ہے یعنی ان سے خواہ کس قدر منافع حاصل ہوجائیں ، ان کا گناہ زیادہ بڑا ہے ۔

اس تفصیل سےمعلوم ہوا کہ کسی بھی انسان کے لیے لا ٹری کامعاملہ کرنا جائز نہیں ہے خواہ اس کی غرض لاٹری سے حاصل ہونے والی رقم کو بہبود عامہ کے کاموں مثلا سڑکوں کی اصلاح ،مسجدوں کی تعمیر اور مجاہدین کی اعانت کے لیے ہی خرچ کرنا کیوں  نہ ہو ۔ جب وہ اس حرام مال کو ، جسے اس نے حرام طریقے سے کمایا ہو ،تقرب الہی کےکاموں میں صرف کرے گا تو اس کا یہ مال قبول نہیں ہوگا بلکہ گناہ اسکے ذمہ باقی رہے گا اور اجر وثواب سے یہ محروم رہے گا کیونکہ اللہ تعالی کی ذات پاک ہے اور وہ پاک مال ہی کو قبول فرماتا ہے ۔ اگر وہ حرام سے بچنے کے لیے اس مال کو مسجدوں کی تعمیر اور اس طرح کے دیگر کاموں میں خرچ کرنا چاہے تو یہ بیوقوفی کی بات ہوگی کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ انسان غلطی سے بچنے کے لیے غلطی کرے کیونکہ عقل مندی اور شریعت کاتقاضا تو یہ ہے کہ انسان غلطی سے بچنے کے لیے اسے ترک کردے ۔ یہ نہیں کہ پہلے اس سے آلود ہو اور پھر اس سے خلاصی حاصل کرنے کی کوشش کرے لہذاانسان کو اس نیت سے بھی یہ حرام مال نہیں کمانا چاہیے کہ اسے وہ تقرب الہی کے کاموں میں خرچ کرے گا یا ایسے کاموں میں خرج کرے گا جو فلاح و بہبود عامہ کے کام ہوں کیونکہ مرد مومن کے لیے واجب یہ ہے کہ وہ حرام کو قطعی طور پر ترک کردے اوراس سے اپنےدامن کو آلودہ نہ ہونے دے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص462

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ