سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(600) معاوضہ کے بغیر تاش کا کھیل

  • 10974
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-07
  • مشاہدات : 575

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر تاش کا کھی نماز سے غافل نہ کرے اور اس میں پیسوں کا چکر بھی نہ ہو تو کیا یہ حرام ہے یا نہیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تاش کا کھیل جائز نہیں ہے خواہ اس میں معاوضہ نہ بھی ہو کیونکہ یہ کھیل انسان کو اللہ کے ذکر اورنماز سے غافل کر دیتا ہے خواہ کھیلنے والا یہ گمان کرے کہ و ہ اس سے غافل نہیں ہوتا اور پھر یہ کھیل جوئے کا ذریعہ بھی ہے ، جو نص قرآن کی روشنی میں حرام ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِنَّمَا الخَمرُ‌ وَالمَيسِرُ‌ وَالأَنصابُ وَالأَزلـٰمُ رِ‌جسٌ مِن عَمَلِ الشَّيطـٰنِ فَاجتَنِبوهُ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ﴿٩٠﴾... سورةالمائدة

’’اے ایمان والو ! شراب اور جوا اور بت او رپانسے ( یہ سب )  ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں ، سو ان سے بچتے رہنا تاکہ تم نجات پاؤ ۔‘‘

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص457

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ