سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

مشرک کے ساتھ خریدوفروخت کرنا

  • 109
  • تاریخ اشاعت : 2011-12-05
  • مشاہدات : 1688

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک ایسا شخص جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرے یا آدمی یہ بات جانتا ہو کہ اس کا عقیدہ شرکیہ ہے تو کیا اس سے کوئی چیز خریدی جا سکتی ہے۔؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک ایسا شخص جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرے یا آدمی یہ بات جانتا ہو کہ اس کا عقیدہ شرکیہ ہے تو کیا اس سے کوئی چیز خریدی جا سکتی ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جی ہاں خریدی جاسکتی ہے ۔کفارومشرکین کے ساتھ بیع وشراء کرنا حرام نہیں ہے بلکہ جائز ومباح  امرہے۔

اسکی واضح ترین دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنی درع ایک یہودی کے ہاں گروی رکھ کر اپنے اہل بیت کے لیے کچھ راشن اس سے خریدا تھا۔یہ روایت صحیح بخاری سمیت متعدد کتب حدیث میں موجود ہے

دیکھیے صحیح بخاری ۲۰۶۹ ,جامع ترمذی ۱۲۱۵ ,نسائی ۴۶۱۰ , ابن ماجہ ۲۴۳۷

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ