سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(508) تصویریں 'مجلات اور ٹیلی ویژن

  • 10877
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-05
  • مشاہدات : 560

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
فوٹو گرافی  اور شمسی  تصویر  جس کا آپ نے اپنے رسالہ میں ذکر  نہیں فرمایا 'اس کے بارے میں ہمارا اختلاف  ہوا کہ کیا وہ بھی  ہاتھ  سے بنائی  ہوئی  تصویر  کے حکم میں داخل ہے یا اس سے خارج ہے؟ بعض  ساتھیوں نے یہ دعویٰ کیا کہ  یہ جائز ہے کیونکہ یہ ہاتھ  سے بنی ہوئی  تصویر  نہیں ہے بلکہ  یہ تو انسان  کی ایک  خیالی  تصویر  سے عبارت ہے  اور اس خیالی تصویر  کے بنانے  کے لیے اس کے سوا اور کچھ نہیں  کہاگیا کہ صرف  کیمرے  کے ایک بٹن  کو دبا گیا  ۔مجھے  بعض  دوستوں نے آپ کی  فوٹو  گراف  تصویر بھی دکھائی جو کویت  کے مجلہ "المجتمع " اور مصر کے "الاعتصام " میں شائع ہوئی  ہے۔یہ تصویرماہ رمضان  المبارک  میں احکام  روزہ  سے متعلق  آپ کے فتویٰ کے ساتھ  شائد ہوئی  ہے۔کیا مجلہ میں آپ کی تصویر کے شائع  ہونے کے یہ معنیٰ ہیں کہ تصویر  جائز  ہے یا نہیں یا یہ تصویر  آپ  کے علم  کے بغیر  شائع  کردی گئی ہے؟
اگر فوٹو گرافی تصویر جائز نہیں ہے تو ان اخبارات وجرائد  کے خریدنے  کے بارے میں کیا حکم ہے' جو  تصویروں سے بھرے ہوتے ہیں لیکن ان میں  اہم خبر  یں بھی ہوتی ہیں اور صحیح اور غلط  معلومات بھیـــــراہنمائی فرمائیں؟
کیا ان مجلات کو  نماز  ادا کرنے کی جگہ  پر کپڑے  وغیرہ  سے ڈھانپ  کر رکھا جاسکتا ہے  یا پڑھنے  کے بعد  انہیں تلف  کرنا واجب ہے ؟ ٹیلی ویژن کی متحر ک  تصویروں  کی طرف  دیکھنے  کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ کیانماز کی جگہ  پر ٹیلی وژن  کو استعمال کیا جاسکتا ہے ؟ان اشیاء کے احکام  کے بارے  میں راہنمائی  فرمائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر سے نوازے ۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

فوٹو گرافی  اور شمسی  تصویر  جس کا آپ نے اپنے رسالہ میں ذکر  نہیں فرمایا 'اس کے بارے میں ہمارا اختلاف  ہوا کہ کیا وہ بھی  ہاتھ  سے بنائی  ہوئی  تصویر  کے حکم میں داخل ہے یا اس سے خارج ہے؟ بعض  ساتھیوں نے یہ دعویٰ کیا کہ  یہ جائز ہے کیونکہ یہ ہاتھ  سے بنی ہوئی  تصویر  نہیں ہے بلکہ  یہ تو انسان  کی ایک  خیالی  تصویر  سے عبارت ہے  اور اس خیالی تصویر  کے بنانے  کے لیے اس کے سوا اور کچھ نہیں  کہاگیا کہ صرف  کیمرے  کے ایک بٹن  کو دبا گیا  ۔مجھے  بعض  دوستوں نے آپ کی  فوٹو  گراف  تصویر بھی دکھائی جو کویت  کے مجلہ "المجتمع " اور مصر کے "الاعتصام " میں شائع ہوئی  ہے۔یہ تصویرماہ رمضان  المبارک  میں احکام  روزہ  سے متعلق  آپ کے فتویٰ کے ساتھ  شائد ہوئی  ہے۔کیا مجلہ میں آپ کی تصویر کے شائع  ہونے کے یہ معنیٰ ہیں کہ تصویر  جائز  ہے یا نہیں یا یہ تصویر  آپ  کے علم  کے بغیر  شائع  کردی گئی ہے؟

اگر فوٹو گرافی تصویر جائز نہیں ہے تو ان اخبارات وجرائد  کے خریدنے  کے بارے میں کیا حکم ہے' جو  تصویروں سے بھرے ہوتے ہیں لیکن ان میں  اہم خبر  یں بھی ہوتی ہیں اور صحیح اور غلط  معلومات بھیـــــراہنمائی فرمائیں؟

کیا ان مجلات کو  نماز  ادا کرنے کی جگہ  پر کپڑے  وغیرہ  سے ڈھانپ  کر رکھا جاسکتا ہے  یا پڑھنے  کے بعد  انہیں تلف  کرنا واجب ہے ؟ ٹیلی ویژن کی متحر ک  تصویروں  کی طرف  دیکھنے  کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ کیانماز کی جگہ  پر ٹیلی وژن  کو استعمال کیا جاسکتا ہے ؟ان اشیاء کے احکام  کے بارے  میں راہنمائی  فرمائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر سے نوازے ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اولاً: فوڑو گرافی اور شمسی تصویر بھی ان تصویروں میں سے ہے 'جو حرام ہیں۔تصویر بن کر بنائی جائے یا رنگوں کے نقش ونگار کے ساتھ  یا مجسم  صورت میں سب کا  حکم ایک ہی ہے 'اس سے حکم میں کوئی فرق  نہیں پڑتا کہ آپ  نے تصویر  کس وسیلہ اور آلہ سے بنائی ہے 'اس طرح  سے بھی تصویر  کے حکم میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تصویر  مشکل سے بنائی گئی ہے یا آسانی سے۔اعتبار  صرف تصویر کا ہے اور وہ حرام ہے  کواہ  اسا کے لیے استعمال  کیے گیے آلات اور اعمال مختلف  ہی ہوں ۔

ثانیاً: مجلہ "المجتمع" اور"الاعتصام " میں احکام  روزہ ورمضان سے متعلق  میرے فتوے  کے ساتھ میری تصویر  کا شائع  نہیں کہ انہوں نے کب  میری تصویر لی تھی۔

ثالثاً: ایسے اخبارات وجرائد  کا خریدنا جائز  ہے'جن  میں اہم خبریں  اور علمی  اور مفید مسائل  ہوں  اور ان میں جاندار  چیزوں  کی تصویریں بھی ہوں  کیونکہ ان سےمقصود علم اور  خبروں کا حاصل کرنا ہوتا ہے  اور تصویریں  ان کے تابع  ہوتی ہیں اور حکم اصل مقصود کے  مطابق ہوتا ہے نہ کہ تابع  کے 'انہیں نماز  کی جگہ  پر رکھنا جائز ہے بشرطیکہ تصویروں  کو کسی  طرح چھپادیا گیا ہو تاکہ ان کے مقالات   سے فائدہ اٹھایا جاسکے  یا تصویروں کے سروں کو اس طرح مٹادیاجائے  کہ ان کی شناخت  ختم ہوجائے

رابعاً:نماز کی جگہ میں ٹیلی ویژن کو رکھنا جائز نہیں ہے  کیونکہ اس میں لہو ولعب  ہے ۔ ٹیلی ویژن کی عریاں اور فحش تصویروں کو دیکھنا بھی جائز  نہیں ہے ۔ٹیلی ویژن  'اس کے سننے اور دیکھنے   کے بارے میں قبل ازیں  فتویٰ صادر ہوچکا ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص388

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ