سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(507) کارٹون تصویر کے بارے میں حکم

  • 10876
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-05
  • مشاہدات : 520

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بعض اخبارات ومجلات میں کارٹون نظر آتے ہیں جو انسانی  تصویروں پر مشتمل ہوتے ہیں ان کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض اخبارات ومجلات میں کارٹون نظر آتے ہیں جو انسانی  تصویروں پر مشتمل ہوتے ہیں ان کے بارے میں کیا حکم ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مذکورہ بالا تصویر جائز نہیں ہے  بلکہ  یہ بھی آج کل عام ہونے والے ان منکرات میں سے ہے 'جن کو ترک  کرنا واجب ہے  کیونکہ ان احادیث  کے عموم  کا یہی تقاضہ ہے جو  ہر جاندار  چیز کی تصویر  کی حرمت  پر دلالت  کرتی ہیں خواہ تصویر  کسی آلہ سے بنائی  جائے   یا کسی اور چیز  سے مثلاً صحیح  بخاری  میں حضرت ابو جحیفہ  رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے کہ نبی ﷺ نے سود  کھانے  اور کھلانے  والے پر لعنت  کی نیز  آپ  نے مصورس پر بھی لعنت  فرمائی اس طرح  صحیح بخاری   ومسلم  میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :

 (ان اشد عذاباً يوم القيامة المصورون ) (صحيح البخاري  اللباس  ‘باب عذاب  المصورين  يوم القيامة ‘ ح: ٥٩٥ وصحيح مسلم  ‘اللباس  والزينة‘باب تحريم تصوير  صورة  الحيوان ___الخّح: ٢١-٩ واللفظ له)

"قیامت  کے دن سب  سے زیادی سخت عذاب  مصوروں کو ہوگا۔"

 نیز آپ نے فرمایا:

(ان الذين  يصنعون  هذه الصور  يعذبون يوم القيامة‘يقال لهم :احيوا ماخلقتم ) (صحيح البخاري ‘اللباس ‘باب عذاب  المصورين  يوم القيامة ‘ ح:٥٩٥١ وصحيح مسلم ‘اللباس  والزينة باب تحريم تصوير  صورة الحيوان____الخ‘ ح: ٢١-٧)

"جو لوگ یہ تصویریں بناتے ہیں'یقیناً انہیں قیامت  کے دن عذاب  دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ تم نے جن کو پیدا کیا تھا اب انہیں زندہ کرو ۔"

اس طرح اس موضوع سے متعلق دیگر  بہت سی احادیث  سے بھی یہی  ثابت  ہوتا ہے کہ تصویر  حرام ہے اور صرف  وہی  تصویر  مستثنیٰ ہے جو کسی ناگزیر  ضرورت وحاجت  کے لیے ہو  کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

﴿وَقَد فَصَّلَ لَكُم ما حَرَّ‌مَ عَلَيكُم إِلّا مَا اضطُرِ‌ر‌تُم إِلَيهِ...﴿١١٩﴾... سورةالانعام

" جو چیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھہرادی  ہیں وہ ایک ایک کرکے  بیان کردی ہیں( بےشک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر  اس صورت میں کہ ان  کے کھانے کے لیے  ناچار ہوجاؤ۔"

میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو  اپنے رب  کی شریعت  اور نبی ﷺ کی سنت  کے مطابق عمل کرنے  اور ان کی مخالفت  سے بچنے کی توفیق  عطا فرمائے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص387

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ