سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(501) تصویر بنانے والوں کے بارے میں حکم

  • 10870
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-03
  • مشاہدات : 456

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
تصویریں بنانے والوں کے لیے تو لعنت آئی ہے  کیا تصویریں بنوانے  والے بھی اس لعنت  کے مستحق ہیں'کیا ان کے بارے میں کوئی خاص دلیل بھی ہے ؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

تصویریں بنانے والوں کے لیے تو لعنت آئی ہے  کیا تصویریں بنوانے  والے بھی اس لعنت  کے مستحق ہیں'کیا ان کے بارے میں کوئی خاص دلیل بھی ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جس طرح دلائل تصویریں بنانے والوں پر لعنت اور آخرت میں ان کے لیے جہنم کی وعید ہے بارے میں ہیں" اسی طرح یہ تمام دلائل  اس شخص کے لیے بھی  ہیں جو اپنے آپ کو  تصویر بنوانے کے لیے پیش کرے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَقَد نَزَّلَ عَلَيكُم فِى الكِتـٰبِ أَن إِذا سَمِعتُم ءايـٰتِ اللَّهِ يُكفَرُ‌ بِها وَيُستَهزَأُ بِها فَلا تَقعُدوا مَعَهُم حَتّىٰ يَخوضوا فى حَديثٍ غَيرِ‌هِ ۚ إِنَّكُم إِذًا مِثلُهُم ۗ...﴿١٤٠﴾... سورةالنساء

"اور اللہ نے (مومنوں ) پر اپنی  کتاب  میں (یہ حکم ) نازل فرمایا ہے کہ جب  تم (کہیں) سنو  کہ اللہ کی آیتوں  سے انکار  ہورہا ہے  اور ان کی ہنسی  اڑائی جاتی ہے  تو جب  تک وہ  لوگ اور باتیں(نہ ) کرنے لگ جائیں ان کے پاس  مت بیٹھو  'ورنہ  تم  بھی انہیں جیسے  ہوجاؤگے ۔"

اللہ تعالیٰ نے  قصۃ ثمود کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:

﴿كَذَّبَت ثَمودُ بِطَغوىٰها ﴿١١ إِذِ انبَعَثَ أَشقىٰها ﴿١٢ فَقالَ لَهُم رَ‌سولُ اللَّهِ ناقَةَ اللَّهِ وَسُقيـٰها ﴿١٣ فَكَذَّبوهُ فَعَقَر‌وها فَدَمدَمَ عَلَيهِم رَ‌بُّهُم بِذَنبِهِم فَسَوّىٰها ﴿١٤ وَلا يَخافُ عُقبـٰها ﴿١٥﴾... سورة الشمس

"(قوم)ثمود  نے اپنی سرکشی  کی بناپر (پیغمبر کو )جھٹلادیا'جب  ان میں سے ایک  نہایت  بدبخت  اٹھا'تو اللہ کے پیغمبر  (صالح) نے ان سے کہا  کہ (حفاظت  کروتم ) اللہ کی اونٹنی  کی اور  اس کو پانی  پلانے  کی 'مگر انہوں نے  پیغمبر  کو جھٹلایا اوراونٹنی   کی کونچیں کاٹ دیں  تو اللہ نے ان  کے گناہ کے سبب ان پر  عذاب  نازل  کیا اور سب کو (ہلاک  کرکے ) برابر  کردیا اور وہ (اللہ ) اپنے کام کے انجام سے نہیں ڈرتا۔"

 عبدالواحد  بن زید  بیان کرتے ہیں  کہ میں نے  حسن  سے کہا اے ابو سعید ! مجھے اس شخص  کے بارے میں بتائیں جو ابن مہہلب  کے فتنہ  میں تو حاضر  نہ ہو لیکن  دل سے اسے اچھا سمجھتا ہو تو انہوں نے  فرمایا برادر زادے ! کتنے  ہاتھوں  نے اونٹنی  کی کونچوں  کو کاٹا  تھا؟ میں نے جواب  دیا کہ ایک ہی ہاتھ نے 'تو انہوں نے  فرمایا 'کیا  پھر ساری  قوم اس  لیے ہلاک  نہیں کردی  گئی تھی  کہ وہ  اس پر راضی  تھی  کہ  وہ اس  پر راضی تھی ۔امام احمد رضی اللہ عنہ  نے"کتاب الزھد " میں بیان فرمایا ہے کہ  یہ دونوں  آیتیں  اس بات  کی دلیل  ہیں  کہ کسی  فعل پر  راضی ہونے والا بھی  اسی طرح  ہے جیسے  اس فعل  کو کرنے والا'البتہ  وہ شخص اس میں داخل نہیں  ہے جو کسی  اضطراری  ضرورت کی وجہ سے  تصویر بنواتا ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص384

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ