سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(500) فوٹو گرافر کی ملازمت

  • 10869
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-03
  • مشاہدات : 437

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں ایک سرکاری  ادارے میں فوٹو گرافرکے  طور  پر ملازمت  کررہا ہوں  اور مختلف  مواقع کی مناسبتوں  سے مجھے  کیمرے  سے فوٹو  بنانے پڑتے ہیں۔ مجھے  معلوم  ہوا ہے کہ تصویر حرام  ہے جب کہ  وہ انسانی  تصویر  ہو۔امید ہے کہ آپ  فتویٰ کے ذریعہ  راہنمائی فرمائیں  گے  تاکہ  میں اس کام  سے دور  ہوجاؤں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی  کا سبب  ہو ۔اللہ  تعالی  کی ناراضی کا سبب ہو۔اللہ تعالیٰ  آپ کی حفاظت  فرمائے اور نیکی کی توفیق  سے نوازے ؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ایک سرکاری  ادارے میں فوٹو گرافرکے  طور  پر ملازمت  کررہا ہوں  اور مختلف  مواقع کی مناسبتوں  سے مجھے  کیمرے  سے فوٹو  بنانے پڑتے ہیں۔ مجھے  معلوم  ہوا ہے کہ تصویر حرام  ہے جب کہ  وہ انسانی  تصویر  ہو۔امید ہے کہ آپ  فتویٰ کے ذریعہ  راہنمائی فرمائیں  گے  تاکہ  میں اس کام  سے دور  ہوجاؤں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی  کا سبب  ہو ۔اللہ  تعالی  کی ناراضی کا سبب ہو۔اللہ تعالیٰ  آپ کی حفاظت  فرمائے اور نیکی کی توفیق  سے نوازے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہرجان دار چیز کی تصویر حرام ہے خواہ  وہ انسان  ہو  یاحیوان  اورتصویر  خواہ برش سے بنائی جائے  یا بن  کر یا کیمرہ سے کسی ایک  اور چیز سے اور خواہ وہ مجسم ہو یا غیر مجسم ۔تصویر ہر طرح حرام ہے  'کیونکہ تصویر کی حرمت پر دلالت  کرنے والی احادیث کے عموم  سے یہی ثابت ہے ۔ فتویٰ کمیٹی کی طرف  سے اس سلسلہ میں ایک مفصل  اور مدلل فتویٰ جاری ہوچکا ہے۔ہم اس کی فوٹو کاپی  ارسال کررہے ہیں تاکہ آپ اس سے  مستفید ہوسکیں ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص383

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ